سینیٹ اجلاس میں ارکان کی گرما گرمی؛ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور ناصر بٹ آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ کے اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر ناصر بٹ میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے ایوان کا ماحول متاثر ہوا۔
ایوان بالا کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی بطور پریزائیڈنگ افسر صدارت میں شروع ہوا جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سمیت دیگر ارکان شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران مختلف اہم امور پر گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی۔
چائلڈ پروٹیکشن کے معاملے پر سینیٹر شہادت اعوان کے سوال کے جواب میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح بچوں اور آئندہ نسلوں کا تحفظ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چائلڈ پروٹیکشن انسٹیٹیوٹ 2021 میں قائم کیا گیا اور اس کے بعد تمام اعداد و شمار کا تفصیلی بریک ڈاؤن شیئر کیا گیا۔
بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ حکومت شفافیت کے تمام تقاضے پورے کر رہی ہے اور اگر معاملہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں دریائے سواں پر ڈیم کی تعمیر سے متعلق سوال پر سینیٹر علی ظفر کے استفسار پر سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے بتایا کہ منصوبے کے لیے جنوری 2026 میں نیس پاک کو کنسلٹنٹ مقرر کیا گیا ہے۔ پچھلے سیشن میں بھی ادارے کے معاملات پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے جب کہ موجودہ ایم ڈی کی تقرری پر اراکین کو تحفظات ہیں۔
سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ نیس پاک کو تباہ کرنے کی کوششوں پر اراکین میں تشویش پائی جاتی ہے اور انہوں نے معاملہ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز دی۔
اس دوران سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے سندھ کے دریاؤں میں پانی کی صورتحال سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کوئی شخص تمام اعداد و شمار کا حافظ نہیں ہوتا، بات کرتے وقت حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔ حکومت جوابدہ ہے اور یہی نظام کی خوبصورتی ہے، اس لیے ایک ہی بات کو بار بار دہرانے سے گریز کیا جائے۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ آئی سی ٹی کی تمام لائبریریز کو ای لائبریری میں کنورٹ کردیا گیا ہے۔ خواتین وکلا کے لیے ڈے کیئر سینٹر بنائے گئے ہیں۔ ہم تمام کورٹس اور بارز کو ڈیجیٹلائز کررہے ہیں۔ انصاف کی فراہمی ہماری ذمہ داری ہے اور ہم کوشش کررہے ہیں۔
بحث کے دوران ایوان میں سینیٹر ناصر بٹ اور سیف اللہ ابڑو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ سینیٹر ناصر بٹ نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں ہر سوال پر سیف اللہ ابڑو اٹھ جاتے ہیں، پتا نہیں ان کا مسئلہ کیا ہے۔ جس پر ایوان کا ماحول کشیدہ ہوا، تاہم پریزائڈنگ افسر نے اراکین کو تحمل سے گفتگو کرنے کی اپیل کی۔
اسی موقع پر سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے واٹر ریزروائرز بڑھانا ناگزیر ہیں۔ 2026 تک ڈیمز کی فیزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے گی جو 10 سالہ منصوبے پر مشتمل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میری عمر ستر سال ہے، اب کتنے دن رہ گئے ہیں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینیٹر سیف اللہ ابڑو پر سینیٹر نے کہا کہ انہوں نے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔