27 آئینی ترمیم کے لئے حکومت کا سینیٹ میں بھی مطلوبہ تعداد پوری ہونے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: 27 آئینی ترمیم کا مسودہ 7 نومبر کو سینیٹ اجلاس میں پیش کرنے کا امکان ہے۔ حکومت نے سینیٹ میں جے یو آئی کے بغیر ہی تعداد پوری ہونے کا دعویٰ کردیا۔ 96 کے ایوان میں حکومت کو 65 ارکان کی حمایت ملنے کا قوی یقین ہے۔
میڈیاذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم کے مطابق ستائیسویں آئینی ترمیم کےلیے اے این پی کے 3 سینیٹر کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔ آزاد سینیٹر نسیمہ احسان سے بھی حمایت کی یقین دہانی حاصل کرلی گئی۔ مزید 6 آزاد سینیٹرز بھی 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالیں گے، محسن نقوی، عبدالکریم، فیصل واوڈا، عبدالقادر، انوارالحق کاکڑ اور اسد قاسم شامل ہیں۔ ضرورت پڑنے پر جے یو آئی کے 2 سینیٹرز کی حمایت لینے کی بھی کوششیں جاری ہیں۔
ایوان بالا میں پیپلزپارٹی26 اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے،حکومتی اتحاد میں مسلم لیگ ن کے 20،بی اے پی 4، ایم کیو ایم کے 3 ارکان شامل ہیں۔ اے این پی کے 3، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ق کا ایک ایک سینیٹر بھی موجود ہیں۔سینٹ میں اپوزیشن کو 29 اراکین کی حمایت حاصل ہے، اپوزیشن بینچوں پر پی ٹی آئی کے 14 اور جے یو آئی کے 7 سینیٹرز موجود ہیں۔ 6 آزاد ، ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل ایک ایک رکن بھی اپوزیشن کا حصہ ہے۔ اپوزیشن کے آزاد ارکان مراد سعید اور خرم ذیشان نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا۔
واضح رہے کہ حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں ترمیم کی منظوری کے لیے واضح دو تہائی اکثریت حاصل ہے، حکومت کو قومی اسمبلی میں 237 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جب کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں، قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے 125، پی پی پی کے 74 ارکان، متحدہ قومی موومنٹ کے 22، پاکستان مسلم لیگ 5 ، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے 4 ارکان اتحاد کا حصہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسلم لیگ کی حمایت ا ئی کے
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔