تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ قومی عوامی تحریک نے کہا کہ کرپٹ وزرا، ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز کے پاس سندھ کی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں، صرف کرپشن کی اسکیمیں ہیں، اسی لیے سڑکیں خستہ حال ہیں اور نظام فراڈ پر چل رہا ہے، سندھ ملک کی معیشت کا مرکز ہے، اس کی تباہی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ قومی عوامی تحریک کے سربراہ اور معروف قانون دان ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کو وہ سندھ سمیت پورے ملک پر حملہ سمجھتے ہیں, بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم بنانے کے لیے 27ویں ترمیم کا سودا کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی نے 26ویں ترمیم منظور کرائی اور اب 27ویں ترمیم بھی منظور کرانے جا رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے ٹنڈو محمد خان کی یونین کونسل مویا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم ختم کرکے صوبوں سے اختیارات اور وسائل چھینے جا رہے ہیں، لیکن پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کو سندھ کا بٹوارہ کرنے نہیں دیا جائے گا، سندھ ہمارا تاریخی وطن ہے اور پاکستان کا بانی صوبہ ہے، 27ویں ترمیم کے ذریعے سندھ کی وحدت پر کوئی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا، پیپلز پارٹی اقتدار کی لالچ میں سندھ کو توڑنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں نے عوامی دولت پر ڈاکے ڈالے ہیں، کروڑوں روپے کرپشن کی نذر ہوگئے، کرپشن میں ملوث چیئرمینوں اور افسران کو تاحیات نااہل قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار اقتدار میں آنے والے کرپٹ وزرا، ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز کے پاس سندھ کی ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں، صرف کرپشن کی اسکیمیں ہیں، اسی لیے سڑکیں خستہ حال ہیں اور نظام فراڈ پر چل رہا ہے، سندھ ملک کی معیشت کا مرکز ہے، اس کی تباہی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وسائل پر قبضہ کرلیا گیا ہے، جرائم پیشہ افراد اور سرداروں کو حکومت کا سہارا حاصل ہے، عوام سندھ کے پانی اور وسائل کی حفاظت ہر قیمت پر کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: 27ویں ترمیم نے کہا کہ انہوں نے رہا ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن