ایران ملتِ اسلامیہ کے سر کا تاج، امریکی دھمکیاں مرعوب نہیں کر سکتیں، قاسم علی قاسمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
رہنما شیعہ علماءکونسل پنجاب کا کہنا ہے کہ ایران اسلامی دنیا کی قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، فلسطین کیساتھ کھڑا ہے، ایران نے ہمیشہ اپنی پالیسی سے امت کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پنجاب کے فوکل پرسن قاسم علی قاسمی نے کہا ہے کہ ایران ملت اسلامیہ کے سر کا تاج اور غیرت مند ملک ہے، جس نے امریکہ اور یورپی ممالک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، امریکی دھمکیاں اور حملے ایرانی قیادت کو مرعوب نہیں کر سکے اور نہ ہی آئندہ کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پوزیشکیان کا حالیہ بیان قابل تحسین ہے، جس میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی اور سول مقاصد کیلئے نیوکلیئر پروگرام پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، بلکہ امریکی حملے کے نتیجے میں ہونیوالے نقصان کا ازالہ اور تعمیرنوء کے کام جلد شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بہادر قوم، فوج اور پاستداران انقلاب نے ثابت کیا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کے قیادت کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، فلسطین کے مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایران نے ہمیشہ اپنی پالیسی سے امت کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔