پاکستان اور ایران کے درمیان میڈیا کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ، اب تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، عطااللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پاکستان اور ایران کے درمیان میڈیا کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ، ایران براڈ کاسٹنگ کے نائب صدر احمد نوروزی اور پی ٹی وی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاطمہ شیخ نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران پی ٹی وی اور ایران براڈکاسٹنگ کے درمیان میڈیا کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جبکہ پیمرا اور ایرانی ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان بھی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
اس کے علاوہ ایرانی میڈیا اور 3 نجی پاکستانی اداروں کے درمیان بھی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ایرانی وفد کے ارکان کو یادگاری سوینیئرز بھی پیش کیے۔
وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے تقریب سے خطاب میں کہاکہ پاکستان اور ایران کے درمیان میڈیا کے شعبے میں تعاون خوش آئند ہے اور یہ عوامی روابط سمیت دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دورے کے بہترین نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ صدر مسعود پزشکیان نے اپنے دورے کا آغاز لاہور میں شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری سے کیا، جو دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات اور بھائی چارے کی روشن مثال ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہاکہ پاکستانی عوام، حکومت اور میڈیا نے مشکل وقت میں ایران کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور پاکستانی میڈیا نے ایرانی قوم کے حوصلے اور عزم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔
انہوں نے میڈیا کے شعبے میں تعاون کو عملی شکل اختیار کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ معاہدے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔
اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے تقریب سے خطاب میں کہاکہ ایران اور پاکستان کے تعلقات ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے کردار اور تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چند ماہ قبل ایرانی صدر کے تاریخی دورے نے تعلقات کا نیا باب رقم کیا۔
آئی آر آئی بی ورلڈ سروس کے نائب صدر احمد نوروزی نے کہاکہ پاکستان کی حکومت اور عوام کے اصولی اور ثابت قدم مؤقف پر شکریہ ادا کرتے ہیں اور فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں پاکستان کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ایران کی جانب سے علامہ اقبال پر فلم سیریز کی تجویز پاکستان کو پیش کی گئی ہے، جو دونوں ممالک کے ثقافتی تعلقات میں نیا باب ثابت ہوگی۔
احمد نوروزی نے مزید کہاکہ ایرانی میڈیا پاکستانی ماہرین کو تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور پاکستانی طلبہ کے لیے بین الاقوامی ورکشاپس اور تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
انہوں نے میڈیا کی استقامت اور پیشہ ورانہ جذبے کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں آئی آر آئی بی ہیڈکوارٹر پر حملے کے باوجود صحافی ڈٹے رہے اور ایرانی خاتون صحافی سحر امامی نے بمباری کے دوران بھی خبر رسانی جاری رکھی، جو دنیا کے لیے مثال ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہاکہ میڈیا کے شعبے میں تعاون سے دونوں ممالک کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے اور یہ معاہدے محض کاغذی نہیں رہیں گے بلکہ عملی طور پر نافذ ہوں گے۔
انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیاکہ علامہ اقبالؒ پر مشترکہ اردو اور فارسی سیریز تیار کی جا رہی ہے جو نئی نسل کو اقبالؒ کے فلسفے، خودی، علم اور عمل کا پیغام پہنچائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک ایران تعلقات دستخط مفاہمتی یادداشتیں میڈیا کے شعبے میں تعاون وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک ایران تعلقات مفاہمتی یادداشتیں میڈیا کے شعبے میں تعاون وی نیوز کے درمیان میڈیا کے شعبے میں میڈیا کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے وزیر اطلاعات اور ایران ایران کے انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔