مولانا فضل الرحمان ائمہ کرام کے لیے پنجاب حکومت کے وظیفہ میں رکاوٹ نہ بنیں، علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ائمہ کرام کے لیے پنجاب حکومت کے وظیفہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے علامہ راغب نعیمی نے کہاکہ حکومت کی جانب سے ائمہ کرام کو ماہانہ وظیفہ وظیفہ دینے کا فیصلہ درست عمل ہے، مساجد میں امام کو 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے، اگر پنجاب حکومت 65 ہزار مساجد کے ائمہ کرام کو وظیفہ دینا چاہتی ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اب امام مسجد کو ماہانہ وظیفہ دیا جائےگا: پنجاب حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا
انہوں نے کہاکہ اگر کوئی یہ وظیفہ نہیں لینا چاہتا تو نہ لے، سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کو پنجاب حکومت کے اس اقدام میں روکاٹ نہیں بننا چاہیے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہاکہ وظیفہ ملنے سے مسجد کا امام سرکاری ملازم نہیں ہو جائے گا، مساجد کو سرکاری تحویل میں لینے کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، حکومت پھر اس مسجد کے تمام اخراجات کی ذمہ داری بھی اٹھائے گی۔
انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے بڑے بڑے جلسے کررہے ہیں، اور ان جلسوں میں وہ اس طرح کی گفتگو کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے 65 ہزار مساجد کے ائمہ کرام کو ماہانہ وظیفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ علما کے ضمیر خریدنے کی کوشش ہے۔
’مریم نواز سے میٹنگ میں طے پایا ہے کہ کسی بے گناہ کو نہیں پکڑا جائےگا‘علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے علما کرام کی میٹنگ ہوئی، جس میں یہ طے پایا کہ کسی بے گناہ کو نہیں پکڑا جائے گا۔ ’ہم نے یہ مؤقف اختیار کیاکہ صرف شرپسند عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے دائرے میں لایا جائے، ماورائے عدالت کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔‘
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہاکہ اسلام امن کا درس دیتا ہے، ہمیں اس پیغام کو دوبارہ سے عام کرنے کی ضرورت ہے۔
راغب نعیمی نے کہاکہ اس میٹنگ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن میں 600 لوگ مارے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ سامنے لے کر آئے۔
’سعد رضوی ہارڈ لائنر، غزہ مارچ کے لیے کسی سے مشاورت نہیں کی‘انہوں نے کہاکہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد رضوی ہارڈ لائنر ہیں، ان کے نظریے میں شدت ہے، انہوں نے جب یہ مارچ شروع کیا تو کسی سے مشاورت نہیں کی، بلکہ سولو فلائٹ لے لی۔
انہوں نے کہاکہ ٹی ایل پی کے مارچ میں قانون کو ہاتھ میں لیا گیا، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایکشن لیا، وزیر اعلیٰ پنجاب سے ہونے والی میٹنگ میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی کہ سعد رضوی اس وقت کہاں ہیں۔
مزید پڑھیں: جنوبی پنجاب کے سابق ٹکٹ ہولڈرز کا تحریک لبیک پاکستان سے لاتعلقی کا اعلان
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہاکہ ممتاز قادری نے جو فعل کیا وہ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے، اس نے کیوں ایسا کیا اس پر بات نہیں کروں گا، ہم سب پاکستانی شہری ہیں اور ہمیں قانون پر عمل کرنا چاہیے۔
علامہ راغب نعیمی نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی پنجاب میں کارروائیوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کا کا جواب دینے سے بھی گریز کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ائمہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی مولانا فضل الرحمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی مولانا فضل الرحمان وی نیوز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب نعیمی مولانا فضل الرحمان انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت حکومت کے کے لیے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔