گوگل کی جانب سے پنجاب میں گوگل کروم بک کی فیکٹری لگانے کی پیشکش ، وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھرپور معاونت کی یقین دہانی کروادی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں گوگل کی جانب سے گوگل کروم بک فیکٹری لگانے کی پیشکش پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھرپور معاونت کی یقین دہانی کروادی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے گوگل فار ایجوکیشن اور ٹیک ویلی کے اعلیٰ سطح وفدنے ملاقات کی اور تعلیم اور خاص طور پر بچیوں کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید تعلیم کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کے ویژن کو متاثر کن قراردیا۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ گوگل کروم بک میں 3 بڑے اور اہم سافٹ ویئر بھی انسٹال کیے جائیں گے۔
طلبہ کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹول کٹ اور’جیمنی اے آئی‘ بھی انسٹال کیا جائے گا، انگلش لرننگ کے لیے’ریڈ آلانگ‘ سافٹ ویئر بھی گوگل کروم بک میں میسر ہوگا جبکہ ’کینوا‘سافٹ ویئر بھی مہیا کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تعلیم کے فروغ کے لیے گوگل فار ایجوکیشن کی معاونت کو سراہا۔ گوگل فارایجوکیشن کے وفد نے بریفنگ میں بتایا کہ گوگل فارایجوکیشن نے پنجاب میں سرکاری سکولوں کے 2 ہزار سے زائد ٹیچرز کو ٹریننگ دی ہے جبکہ دیگر اساتذہ کو بھی آئی ٹی ٹریننگ دی جارہی ہے۔
فیلڈ مارشل کاعہدہ آئینی بنانے کیلئے آرٹیکل243 میں ترمیم کی جائے گی، وفاقی حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تیاری پکڑلی
وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنانے پر کام کررہے ہیں، پنجاب کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس حب بنانا ہمارا عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں گوگل کروم بک فیکٹری کے قیام کے لیے بھرپور معاونت کریں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: گوگل کروم بک مریم نواز کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔