امریکی اداکارہ اور 3 بار آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی ڈایان لیڈ89 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی بیٹی اور مشہور اداکارہ لورا ڈرن نے تصدیق کی کہ لیڈ کیلیفورنیا میں اپنے گھر پر وفات پا گئیں۔

ڈایان لیڈ نے اپنے 7 دہائیوں پر مشتمل فنی سفر میں مضبوط، ذہین اور پیچیدہ کردار نبھائے۔ انہوں نے فلموں ‘ایلِس ڈز نٹ لِو ہئیر اینی مور’، ‘وائلڈ ایٹ ہارٹ’ اور ‘ریمبلنگ روز’ میں اپنی شاندار اداکاری پر آسکر کی نامزدگیاں حاصل کیں۔ وہ ٹی وی اور فلموں میں 120 سے زائد کردار ادا کر چکی تھیں، جن میں ‘چائنا ٹاؤن’، ‘سِٹیزن رُوتھ’، ‘جائے’ اور ‘این لائٹنڈ’ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: لاسی اور لاسٹ اِن اسپیس جیسی یادگار فلموں کی مشہور اداکارہ لاک ہارٹ انتقال کرگئیں

1991 میں لیڈ اور ان کی بیٹی لورا ڈرن دونوں کو فلم ریمبلنگ روز کے لیے ایک ساتھ آسکر نامزد کیا گیا، ایسا کرنے والی پہلی اور واحد ماں بیٹی کی جوڑی۔ لورا نے اپنی والدہ کو ‘سب سے بہادر اور غیر معمولی اداکارہ’ قرار دیا۔

1935 میں امریکی ریاست مسسی سیپی میں پیدا ہونے والی ڈایان لیڈ نے نوعمری میں ہی اداکاری کا آغاز کیا۔ انہوں نے نیویارک میں ماڈلنگ اور ڈانس سے کیریئر شروع کیا اور بعد میں ٹی وی ڈراموں ‘پیری میسن’ اور ‘دی فیو جیٹو’ میں کام کیا۔

لیڈ نے 1995 میں فلم مسز منک لکھی، ہدایت دی اور اس میں خود بھی اداکاری کی۔ 2010 میں وہ، ان کے سابق شوہر بروس ڈرن اور بیٹی لورا ڈرن ہالی ووڈ واک آف فیم پر مشترکہ ستاروں سے نوازے گئے۔

اپنی بیماری کے باوجود، لیڈ نے 2023 میں اپنی بیٹی کے ساتھ یادگار کتاب ‘ہنی، بیبی، مائن’ لکھی، جو ماں بیٹی کے درمیان زندگی، محبت اور موت پر ہونے والی گفتگوؤں پر مبنی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لیڈ نے

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا