اٹلی ، برفانی تودہ گرنے سےباپ بیٹی سمیت 5 جرمن کوہ پیما ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
اٹلی(ویب ڈیسک) برفانی تودہ گرنے سے 5 کوہ پیما ہلاک۔اٹلی کے شمالی صوبے کے پہاڑی سلسلے میں جرمن کوہ پیماؤں پر مشتمل دو مختلف گروپ برفانی تودے کی زد میں آگئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کوہ پیما تقریباً 3,200 سے 3,500 میٹر کی بلندی پر واقع چوٹی کے راستے پر چڑھ رہے تھے۔
ابتدائی طور پر برفانی تودہ کوہ پیما کے پہلے گروپ کے تین افراد کو اپنے ساتھ بہا کر گہری کھائی میں لے گیا۔ تینوں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
بعد ازاں دیگر دو کوہ پیما جن میں ایک والد اور اس کی 17 سالہ بیٹی شامل ہیں۔ منصرہ مقام سے تقریباً 200 میٹر سے نیچے پھسلنے یا بہہ جانے کے بعد ہلاک پائے گئے۔
کیمپ، ریسکیو ٹیمز اور ہیلی کاپٹر عملے نے امدادی کارروائی کی مگر خراب موسم اور دشوار گزار بلندی کی وجہ سے ریسکیو کا کام تاخیر کا شکار ہوا۔
اس دوران دو کوہ پیماؤں کو بچا لیا گیا جنھیں اسپتال منتقل کردیا گیا اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
یہ حادثہ ایک ایسے مقام پر ہوا جہاں تازہ برف پڑنے کے بعد سفید پوشی اور ناہموار سطح پائی جا رہی تھی۔ برفانی تودہ اُس وقت ٹوٹا جب موسم نسبتاً ناہموار تھا اور وہ وقت سفر کے لحاظ سے درست نہ تھا۔
دستیاب اعداد اور شمار کے مطابق اٹلی سمیت متعدد ممالک میں سالانہ اوسطاً 20 سے 22 اموات ہوتی ہیں۔
تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اٹلی میں اسکائی ماؤنٹیننگ یا آف پِسٹ سرگرمیوں کے دوران ہونے والی اَوالانچ اموات کی اوسطاً 21.
خیال رہے کہ 2025 کی گرمیوں کے دوران اٹلی کے پہاڑی علاقوں میں ہائیکرز اور سیاحوں کی اموات کا بڑھتا ہوا رجحان دیکھا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برفانی تودہ کوہ پیما
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔