دوسری شادی سے اپنے شوہر کو کیوں روکا، نکاح کی خواہش مند خاتون کا ساتھیوں کے ہمراہ پہلی بیوی پر تشدد
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں شوہر کو دوسری شادی سے روکنے پر خاتون کو مبینہ طور پر اس کے شوہر سے نکاح کی خواہش مند خاتون اور اس کے مرد ساتھیوں نے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
واقعے کی اطلاع پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے متاثرہ خاتون کے گھر کا دورہ کیا اور واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ تمام نامزد ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔
حنا پرویز بٹ نے متاثرہ خاتون اور اس کی والدہ سے ملاقات کر کے انہیں مکمل قانونی، طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی خاتون کے گھر میں گھس کر تشدد کرنا انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے، ایسے عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
چیئرپرسن نے مزید کہا کہ خواتین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا وژن “خواتین کے لیے محفوظ پنجاب” ہی ہمارا مشن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔