بھارتی اداکارہ و سیاستدان کنگنا رناوت کو کسان تحریک کے دوران بزرگ خاتون کسان کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز پوسٹ کرنے کے مقدمے میں بھٹنڈہ کی مقامی عدالت نے ضمانت دے دی۔

بھارت میں 2021 میں ہونے والی کسان تحریک کے دوران اداکارہ کنگنا نے ایک ٹوئٹ میں کسان خاتون مہندر کور کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ان پر پیسے لے کر احتجاج میں شامل ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ یہ وہی دادی ہیں جو ٹائم میگزین میں سب سے طاقتور ہندوستانی کے طور پر دکھائی گئی تھیں، مگر اب یہ 100 روپے میں دستیاب ہیں۔؎

یہ بھی پڑھیے: بھارتی پولیس پر عدم اعتماد، اداکارہ نے گن لائسنس کے لیے اپلائی کردیا

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی صحافیوں نے بھارت کی بین الاقوامی تشہیر کو ہائی جیک کر لیا ہے، ہمیں اپنے لوگ چاہییں جو ہمارے لیے بولیں۔

کنگنا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اُن کی 2021 کی پوسٹ کو غلط سمجھا گیا اور انہوں نے وضاحت دی کہ وہ ہر ماں کا احترام کرتی ہیں۔ تاہم، متاثرہ خاتون مہندر کور کے اہلخانہ نے اُن کی معافی کو فی الحال قبول نہیں کیا۔

مہندر کور کے وکیل راگھبیر سنگھ بہنیوال کے مطابق، اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ 4 سال بعد کیوں معافی مانگ رہی ہیں، جبکہ انہوں نے اس کیس کو سپریم کورٹ تک لے کر گئیں۔ تاہم وہ قانونی نظام پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں۔

یہ مقدمہ 73 سالہ مہندر کور کی جانب سے 2021 میں دائر کیا گیا تھا، جس میں کنگنا پر تعزیراتِ ہند کی دفعات 499 اور 500 کے تحت فوجداری ہتک عزت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: ہزاروں کسانوں کی بھارتی دارالحکومت پر یلغار، دہلی محصور ہو کر رہ گیا

مہندر کور نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ان کا دادی سے کوئی تعلق نہیں، اور کنگنا کے بیانات جھوٹے، توہین آمیز اور اُن کی عزتِ نفس کے منافی تھے، جس سے اُنہیں سماجی سطح پر بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔

کنگنا کے وکلا کا مؤقف تھا کہ ان کا ری ٹوئٹ بدنیتی پر مبنی نہیں تھا اور انہوں نے صرف نیک نیتی کے تحت بات کی تھی۔ تاہم پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے ان کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ان کی پوسٹ نیک نیتی پر مبنی نہیں تھی اور سپریم کورٹ نے بھی ان کی درخواست واپس لینے کے بعد معاملہ ختم کر دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عدالت کسان تحریک کنگنا رناوت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عدالت کسان تحریک کنگنا رناوت کسان تحریک مہندر کور انہوں نے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار