20 امریکی ریاستوں کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایچ ون بی ویزا فیس کیخلاف مقدمہ دائر
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
20 امریکی ریاستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ایچ ون بی ویزا فیس کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔
امریکہ کی 20 ریاستوں نے وفاقی عدالت میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں ایچ ون بی ویزا درخواست دہندگان سے ایک لاکھ ڈالر فیس لینے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے امیر تارکین وطن کے لیے گولڈ کارڈ ویزا اسکیم متعارف کرادی
ریاستوں کا موقف ہے کہ یہ فیس بنیادی خدمات جیسے تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
مقدمے کے مطابق یہ فیس وفاقی انتظامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور ایگزیکٹو کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتی ہے۔ یہ مقدمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ (ڈی ایچ ایس) کے اُس قواعد کے خلاف ہے، جس کے تحت ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت ہائر کیے جانے والے ہائی اسکِلڈ کارکنان کے لیے درخواست دینے پر آجروں سے فیس میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
ریاستوں نے کہا کہ ایچ ون بی سے متعلقہ فیس ہمیشہ ’انتظامی اخراجات‘ تک محدود رہی ہیں، اور اس پالیسی کی وجہ سے اسپتال، اسکول اور یونیورسٹیاں خاص طور پر مزدور کمی کا شکار ہوسکتی ہیں۔
مقدمہ کی قیادت کیلیفورنیا، میساچوسٹس، ایریزونا، کولوراڈو، کنیکٹیکٹ، ڈیلاویئر، ہوائی، الینوائے، میری لینڈ، مشی گن، منیسوٹا، نیواڈا، نارتھ کیرولائنا، نیو جرسی، نیو یارک، اوریگون، رہوڈ آئی لینڈ، ورمونٹ، واشنگٹن اور وسکونسن کر رہے ہیں۔
مالی سال 2024 میں تقریباً 17 ہزار ایچ ون بی ویزا صحت کے شعبے کے لیے منظور ہوئے، جن میں تقریباً 40 فیصد ویزے غیر ملکی ڈاکٹروں یا سرجنز کے لیے تھے۔ ریاستوں کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت 2036 تک تقریباً 86 ہزار ڈاکٹروں کی کمی ہو سکتی ہے۔
ایک لاکھ ڈالر کی فیس 21 ستمبر 2025 یا اس کے بعد جمع کرائی گئی درخواستوں پر لاگو ہوگی۔ ڈی ایچ ایس سیکریٹری کو چھوٹ دینے کا اختیار حاصل ہے، تاہم چھوٹ کے معیار ابھی واضح نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک چھوڑنے پر 1000 ڈالر دینے کا اعلان
اس سے قبل ایچ ون بی ویزا کی فیس عام طور پر 960 ڈالر سے 7 ہزار 595 ڈالر تک ہوتی تھی، ناقدین کے مطابق یہ نئی فیس ابتدائی مقصد سے مکمل طور پر ہٹ کر ہے اور مہارت پر مبنی ورک فورس کو محدود امیگریشن کے ذریعے بدلنے کی کوشش ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ویزا پالیسی کا مقصد مقامی مزدوروں پر توجہ دینا ہے، جبکہ ریاستیں استدلال کرتی ہیں کہ ایچ ون بی صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں کے لیے انتہائی تربیت یافتہ افراد فراہم کرنے کا لازمی ذریعہ ہے۔
یہ مقدمہ ایگزیکٹو کی ویزا فیس کے حوالے سے اختیارات کی حد کو چیلنج کرے گا، جس کے اثرات آجروں اور غیر ملکی پیشہ ور افراد پر ملک گیر سطح پر مرتب ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا تارکین وطن ڈونلڈ ٹرمپ ریاستیں مقدمہ وفاقی عدالت ویزا فیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا تارکین وطن ڈونلڈ ٹرمپ ریاستیں وفاقی عدالت ویزا فیس ایچ ون بی ویزا ویزا فیس کے لیے
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔