اپنے بیان میں سابق وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری نے کہا کہ 2018 میں بلوچستان حکومت کی تبدیلی میں دونوں جنرلز کی مداخلت رہی۔ افسران کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے الزام عائد کیا ہے کہ 2018 میں ان کی حکومت جنرل فیض اور جنرل باجوہ نے ختم کروائی تھی، کیونکہ وہ میں نواز شریف کے ساتھ کھڑا تھے۔ انہوں نے جنرل فیض حمید کے خلاف فوجی عدالت کے کورٹ مارشل فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی منتخب جمہوری حکومت کو ہٹانے میں نہ صرف فیض حمید، بلکہ جنرل باجوہ اور ان کے ماتحت افسران بھی برابر کے شریک تھے۔ ثناء اللہ زہری نے کہا کہ میری حکومت اس لیے ختم کی گئی کیونکہ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑا رہا، اور اس میں سیاسی انجینئرنگ شامل تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال دوبارہ خرابی کی جانب گامزن ہوئی۔

سابق وزیراعلیٰ نے عدالت میں تمام ثبوت پیش کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی اور سوال اٹھایا کہ سیاستدانوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے، جبکہ فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا دی گئی، یہ کیا دوہرا معیار ہے۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے عدالتی قتل تسلیم کیا تھا۔ ثناء اللہ زہری نے مزید کہا کہ جنرل باجوہ کی جانب سے فیض حمید کو اسلام آباد بلانے کی یقین دہانی کے باوجود وہ چار دن تک کوئٹہ میں قیام پذیر رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی میں دونوں جنرلز کی مداخلت رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ سزا و جزا کا یہ عمل شفاف انداز میں مکمل ہونا چاہیے اور پاکستانی قوم اسے قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ بلوچستان کی منتخب جمہوری حکومت کو ہٹانے پر باجوہ، فیض حمید اور ان کے ماتحت افسران کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ثناء اللہ زہری نے جنرل باجوہ انہوں نے فیض حمید کہا کہ

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی