ممبر (واٹر) واپڈا نے ری سیٹلمنٹ ٹیم، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے ہمراہ ہرپن داس ماڈل ویلیج چلاس میں پلاٹوں کے لیے جگہ ہموار کرنے سمیت جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔ اسلام ٹائمز۔ واپڈا کے ممبر (واٹر) سید اختر علی شاہ نے قومی اہمیت کے حامل میگا منصوبے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کا تین روزہ دورہ کیا۔ پراجیکٹ انتظامیہ نے انہیں مین ڈیم پر جاری تعمیراتی پیشرفت، ٹائم لائنز، اہداف اور درپیش عارضی مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ ممبر (واٹر) نے ڈیم فاؤنڈیشن، ڈائی ورشن سسٹم، فلیشنگ ٹنل، آر سی سی لیبارٹری اور دیگر سائٹس پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر چیف انجینئرز، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز نے کام کی پیشرفت اور معیار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کے آغاز سے قبل جاری آر سی سی فل اسکیل ٹرائل ٹریننگ کا بھی جائزہ لیا۔ ممبر (واٹر) نے اعتماد سازی کے تحت جاری منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کے لیے پراجیکٹ حکام، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز سے بریفنگ لی اور ہدایات جاری کیں کہ معاہدہ 2025ء کے تناظر ہرپن داس ماڈل ویلیج سمیت اعتماد سازی کے تمام منصوبوں کو معیار اور طے شدہ ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کیا جائے۔

ممبر (واٹر) واپڈا نے ری سیٹلمنٹ ٹیم، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کے ہمراہ ہرپن داس ماڈل ویلیج چلاس میں پلاٹوں کے لیے جگہ ہموار کرنے سمیت جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔ واضح رہے کہ مین ڈیم کے ساتھ ساتھ متاثرین کی بحالی اور سماجی و معاشی ترقی کے مختلف منصوبے بھی زیر عمل ہیں، جن میں ہرپن داس ماڈل ویلیج، چلاس کے لیے صاف پانی کی فراہمی، چلاس سیف سٹی، پریفری روڈ اور شتیال اپر کوہستان میں دیہی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن شامل ہیں۔ دریائے سندھ پر زیر تعمیر دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے مختلف مقامات پر تعمیراتی کام دن رات جاری ہے۔ ڈیم میں مجموعی طور پر 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہو گا، جس سے 12 لاکھ 30 ہزار ایکڑ اضافی زمین سیراب ہو گی۔ پراجیکٹ کی تکمیل پر 4 ہزار 500 میگاواٹ ماحول دوست پن بجلی پیدا ہو گی، جبکہ نیشنل گرڈ کو ہر سال 18 ارب یونٹ کم لاگت بجلی فراہم کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز جاری تعمیراتی کے لیے ڈیم پر

پڑھیں:

نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔

Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.

People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.

Living conditions remain…

— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ