ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شامل واحد پاکستانی فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کی دلچسپ کہانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے ایک پاکستانی فلم بھی منتخب ہوئی ہے جس کے چرچے زبان زد عام ہونے لگے ہیں۔
عالمی فیسٹیول میں منتخب ہونے والی واحد پاکستانی فیچر فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کی ہدایتکارہ، مصنفہ اور پروڈیوسر سیماب گل ہیں۔
اس فلم نے عالمی سطح پر پاکستان میں بچیوں کی تعلیم اور گھوسٹ اسکولز جیسے سنگین سماجی مسئلے کو اجاگر کر کے توجہ حاصل کرلی ہے۔
’گھوسٹ اسکول‘ کی کہانی کراچی کے مضافات میں واقع ایک ماہی گیروں کی بستی کے گرد گھومتی ہے جس کا مرکزی کردار ایک کم عمر بچی رابعہ ہے۔
یہ کہانی دراصل ایک بدعنوان نظام کی علامت ہے جس کے ذریعے دیہی علاقوں میں لڑکیوں کو مختلف حیلوں بہانوں اور خوف دلا کر تعلیم سے روکا جاتا ہے۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ رابعہ کا اسکول اچانک بند کر دیا جاتا ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ اسکول میں جنّات کا بسیرا ہے۔
معصوم رابعہ اس غیر منطقی جواز کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے اور سوالات اٹھانے لگتی ہے یہاں تک کہ وہ خود سچ جاننے کے سفر پر نکل پڑتی ہے۔
ننھی رابعہ جیسے جیسے جنات کے بسیرے کے سچ ڈھونڈنے کے لیے آگے بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے بستی کے بااثر افراد کے مفادات اور سازش بے نقاب ہوتی جاتی ہے۔
فلم میں زیادہ تر غیر پیشہ ور اداکاروں کو شامل کیا گیا ہے جو ایرانی سینما کے اسلوب کی یاد دلاتا ہے۔
جنّات کی کہانی، فلم میں خوف پیدا کرنے کے بجائے حقیقت اور افسانے کے درمیان ایک علامتی فضا قائم کرتی ہے، جو ناظر کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
اس حوالے سے سیماب گل کا کہنا تھا کہ ’گھوسٹ اسکول‘ کو ابتدا میں ایک ڈاکومنٹری کے طور پر شروع کیا تھا مگر کہانی کی وسعت کے باعث اسے فیچر فلم کی شکل دے دی گئی۔
یاد رہے کہ فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کا ورلڈ پریمیئر رواں برس ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا تھا جبکہ پاکستان میں آئندہ موسمِ گرما میں سینما گھروں کی زینت بننے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیسٹیول میں
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔