Jasarat News:
2026-07-24@03:18:49 GMT

محمد لئیق خان ایک متحرک اور بہادر راہنما

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251214-03-5

 

محمد حسین محنتی

محمد لئیق خان جماعت اسلامی اورنگی کے رکن، معروف سماجی رہنما، محنتی اور بہادر نوجوان تھے۔ ان کا خاندان تقسیم کے وقت ہجرت کرکے پاکستان میں شکارپور آیا کچھ عرصہ کے بعد سکھر رہائش پذیر ہونے وہاں تعلیم حاصل کی اور ملازمت کے لیے کراچی منتقل ہوگئے اورنگی ٹاؤن کو اپنا مرکز و محور بنایا۔ طالب علمی کی زندگی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ فعال کردار ادا کیا۔ تعلیم سے فارغ ہوکر جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے۔ کارکن کی حیثیت سے مختلف ذمے داریاں نبھائیں، جماعت کی رکنیت اختیار کی۔ غریب اور پریشان حال لوگوں کی مدد کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا ان کا بہترین شغل تھا پورے اورنگی ٹاؤن سے لوگ پولیس، آپس کے جھگڑوں اور دیگر مسائل کے حل سلسلے میں ان سے رابطہ کرتے اور وہ شام سے رات گئے تک ان کے ساتھ دوڑ بھاگ میں لگے رہتے‘ اسی عرصے میں ایم کیو ایم کا قیام عمل میں آیا اور کراچی کے مختلف علاقوں میں لسانیت اور قوم پرستی کی آگ لگ گئی ہم یہاں پر ایم کیو ایم کے قیام کا پس منظر اور اس کے محرکات بھی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔

کراچی شہر میں جماعت اسلامی ایک مؤثر عوامی جماعت کی حیثیت سے فعال اور متحرک تھی اسی وجہ سے شہر میں امن و امان، خوشحالی، بھائی چارے اور ترقی کا ماحول تھا۔ یہ امن و امان اور محبت کا ماحول ملکی اور غیر ملکی طاقتوں کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ سندھ میں اردو بولنے والی مہاجر آبادیوں میں احساس محرومی پایا جاتا تھا اس کی ایک وجہ کراچی اور حیدرآباد میں مہاجر آبادی کو سرکاری نوکریوں میں تعصب کی بنیاد پر بہت کم مواقع ملنا جیسے عوامل شامل تھے۔ سندھ یونیورسٹی و دیگر کالجوں میں مہاجر طلبہ کو داخلوں میں کافی دشواریاں پیش آتیں۔ اس وجہ سے ماحول میں کافی تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔ انہی دنوں میں ایک طالبہ بشریٰ زیدی کوچ کے حادثے میں ہلاک ہوگئیں۔ اس کو جواز بنا کر شہر میں پٹھان مہاجر فسادات پھلائے گئے۔ یہ لسانیت کی آگ تیزی سے پھلتی چلی گئی، اس کے بڑے منفی اثرات شہر کی سیاست خصوصاً اورنگی ٹاؤن پر پڑے۔ ایم کیو ایم نے 1985 سے لسانیت کی سیاست کو مزید ہوا دی اور پورے صوبہ سندھ میں مہاجر آبادیوں کو اس کی آماجگاہ بنا دیا۔ آنے والے برسوں میں انتخابی سیاست اور طلبہ و مزدور سیاست کو مکمل طور پر لسانیت کے رنگ میں رنگ دیا گیا۔ اس عرصے میں ہونے والے تمام انتخابات میں ایم کیو ایم کو کامیابی ملی۔ جماعت اسلامی نے شہر میں محبت یکجہتی اور خدمت کے پیغام اور عملی جد وجہد کے ذریعے شہرکو دہشت گردی اور لسانیت سے پاک کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ جنرل مشرف نے حکومت سنبھالنے کے بعد سب پہلے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بلدیاتی قوانین میں رد و بدل کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے کئی محکموں کو بلدیاتی حکومتوں کے حوالے کر دیا۔ ایم کیو ایم نے نئے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ جماعت نے اختیارات کے نچلی سطح پر منتقلی کو عوام کے بہترین مفاد میں سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر نئے قوانین کو قبول کر لیا۔ اس طرح جماعت کے کارکنان کی جان توڑ کوششوں اور بیش بہا قربانیاں کے نتیجے میں 2001 میں بلدیاتی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان صاحب نے ناظم سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا انتخاب اپنی پوری ٹیم کے ساتھ جیت لیا۔ جناب نعمت اللہ خان اور ان کے ساتھیوں نے اہم ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کرکے شہریوں کے دل جیت لیے۔ اس طرح کراچی شہر کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ 2002 میں مشرف حکومت نے قومی الیکشن کا اعلان کیا۔ جماعت نے ایم ایم اے کے تحت اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ اورنگی میں محمد لئیق خان کی خدمات اور ان کے عوامی رابطوں کے پیش نظر ان کو میدان میں اُتارا۔ انہوں نے گھر گھر رابطے کیے۔ اورنگی کے سلگتے ہوئے مسائل کو ہائی لائٹ کیا۔ کارکنان کے ساتھ مل کر جارحانہ عوامی مہم چلائی۔ اورنگی ٹاؤن ایم کیو ایم کا گڑھ ہونے کے باوجود ان کو معجزاتی طور پر شکست ہوئی۔ جماعت کے کارکنان نے اپنی کامیابی پر شکرانہ ادا کیا اور ان مسائل کے حل کے لیے ٹھان لیا۔ جناب محمد لئیق خان نے مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں۔ ایم کیو ایم کے کارکنان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کو جماعت میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ مرحوم لئیق خان نے رات دن ایک کرکے اورنگی کے حالات میں بہتری کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔ لئیق خان نے قومی اسمبلی میں تلخ اور متواتر سوالات سے وزراء کو ہلا کر رکھ دیا۔ قومی اسمبلی کے پورے ٹنیور میں پرائیویٹ بل ایک ہی پاس ہوا اور وہ شادیوں کے کھانے کا ون ڈش کا بل تھا جسے لئیق خان نے ہمارے ساتھ ملکر پیش کیا تھا۔ وہ کبھی اجلاس سے غیر حاضر نہیں رہے۔ راقم ان کے پڑوس کے لاج میں رہتے تھے اس لیے کھانا اجلاس میں شرکت ساتھ ہی ہوتا تھا۔ ان کا لاج اورنگی کے ساتھیوں سے بھرا رہتا۔ لئیق بھائی نے اپنے لاج میں کھانے کا انتظام رکھا تھا۔ اس لیے ان کے کمرے میں ہم لوگ ساتھ ملکر کھانا کھاتے۔ اللہ تعالیٰ محمد لئیق خان کی سماجی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

 

محمد حسین محنتی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اورنگی ٹاو ن ایم کیو ایم اورنگی کے کے ساتھ اور ان

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی