محمد لئیق خان ایک متحرک اور بہادر راہنما
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251214-03-5
محمد حسین محنتی
محمد لئیق خان جماعت اسلامی اورنگی کے رکن، معروف سماجی رہنما، محنتی اور بہادر نوجوان تھے۔ ان کا خاندان تقسیم کے وقت ہجرت کرکے پاکستان میں شکارپور آیا کچھ عرصہ کے بعد سکھر رہائش پذیر ہونے وہاں تعلیم حاصل کی اور ملازمت کے لیے کراچی منتقل ہوگئے اورنگی ٹاؤن کو اپنا مرکز و محور بنایا۔ طالب علمی کی زندگی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ساتھ فعال کردار ادا کیا۔ تعلیم سے فارغ ہوکر جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے۔ کارکن کی حیثیت سے مختلف ذمے داریاں نبھائیں، جماعت کی رکنیت اختیار کی۔ غریب اور پریشان حال لوگوں کی مدد کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا ان کا بہترین شغل تھا پورے اورنگی ٹاؤن سے لوگ پولیس، آپس کے جھگڑوں اور دیگر مسائل کے حل سلسلے میں ان سے رابطہ کرتے اور وہ شام سے رات گئے تک ان کے ساتھ دوڑ بھاگ میں لگے رہتے‘ اسی عرصے میں ایم کیو ایم کا قیام عمل میں آیا اور کراچی کے مختلف علاقوں میں لسانیت اور قوم پرستی کی آگ لگ گئی ہم یہاں پر ایم کیو ایم کے قیام کا پس منظر اور اس کے محرکات بھی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔
کراچی شہر میں جماعت اسلامی ایک مؤثر عوامی جماعت کی حیثیت سے فعال اور متحرک تھی اسی وجہ سے شہر میں امن و امان، خوشحالی، بھائی چارے اور ترقی کا ماحول تھا۔ یہ امن و امان اور محبت کا ماحول ملکی اور غیر ملکی طاقتوں کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ سندھ میں اردو بولنے والی مہاجر آبادیوں میں احساس محرومی پایا جاتا تھا اس کی ایک وجہ کراچی اور حیدرآباد میں مہاجر آبادی کو سرکاری نوکریوں میں تعصب کی بنیاد پر بہت کم مواقع ملنا جیسے عوامل شامل تھے۔ سندھ یونیورسٹی و دیگر کالجوں میں مہاجر طلبہ کو داخلوں میں کافی دشواریاں پیش آتیں۔ اس وجہ سے ماحول میں کافی تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔ انہی دنوں میں ایک طالبہ بشریٰ زیدی کوچ کے حادثے میں ہلاک ہوگئیں۔ اس کو جواز بنا کر شہر میں پٹھان مہاجر فسادات پھلائے گئے۔ یہ لسانیت کی آگ تیزی سے پھلتی چلی گئی، اس کے بڑے منفی اثرات شہر کی سیاست خصوصاً اورنگی ٹاؤن پر پڑے۔ ایم کیو ایم نے 1985 سے لسانیت کی سیاست کو مزید ہوا دی اور پورے صوبہ سندھ میں مہاجر آبادیوں کو اس کی آماجگاہ بنا دیا۔ آنے والے برسوں میں انتخابی سیاست اور طلبہ و مزدور سیاست کو مکمل طور پر لسانیت کے رنگ میں رنگ دیا گیا۔ اس عرصے میں ہونے والے تمام انتخابات میں ایم کیو ایم کو کامیابی ملی۔ جماعت اسلامی نے شہر میں محبت یکجہتی اور خدمت کے پیغام اور عملی جد وجہد کے ذریعے شہرکو دہشت گردی اور لسانیت سے پاک کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ جنرل مشرف نے حکومت سنبھالنے کے بعد سب پہلے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بلدیاتی قوانین میں رد و بدل کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے کئی محکموں کو بلدیاتی حکومتوں کے حوالے کر دیا۔ ایم کیو ایم نے نئے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ جماعت نے اختیارات کے نچلی سطح پر منتقلی کو عوام کے بہترین مفاد میں سمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر نئے قوانین کو قبول کر لیا۔ اس طرح جماعت کے کارکنان کی جان توڑ کوششوں اور بیش بہا قربانیاں کے نتیجے میں 2001 میں بلدیاتی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان صاحب نے ناظم سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا انتخاب اپنی پوری ٹیم کے ساتھ جیت لیا۔ جناب نعمت اللہ خان اور ان کے ساتھیوں نے اہم ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کرکے شہریوں کے دل جیت لیے۔ اس طرح کراچی شہر کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ 2002 میں مشرف حکومت نے قومی الیکشن کا اعلان کیا۔ جماعت نے ایم ایم اے کے تحت اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ اورنگی میں محمد لئیق خان کی خدمات اور ان کے عوامی رابطوں کے پیش نظر ان کو میدان میں اُتارا۔ انہوں نے گھر گھر رابطے کیے۔ اورنگی کے سلگتے ہوئے مسائل کو ہائی لائٹ کیا۔ کارکنان کے ساتھ مل کر جارحانہ عوامی مہم چلائی۔ اورنگی ٹاؤن ایم کیو ایم کا گڑھ ہونے کے باوجود ان کو معجزاتی طور پر شکست ہوئی۔ جماعت کے کارکنان نے اپنی کامیابی پر شکرانہ ادا کیا اور ان مسائل کے حل کے لیے ٹھان لیا۔ جناب محمد لئیق خان نے مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں۔ ایم کیو ایم کے کارکنان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کو جماعت میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ مرحوم لئیق خان نے رات دن ایک کرکے اورنگی کے حالات میں بہتری کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔ لئیق خان نے قومی اسمبلی میں تلخ اور متواتر سوالات سے وزراء کو ہلا کر رکھ دیا۔ قومی اسمبلی کے پورے ٹنیور میں پرائیویٹ بل ایک ہی پاس ہوا اور وہ شادیوں کے کھانے کا ون ڈش کا بل تھا جسے لئیق خان نے ہمارے ساتھ ملکر پیش کیا تھا۔ وہ کبھی اجلاس سے غیر حاضر نہیں رہے۔ راقم ان کے پڑوس کے لاج میں رہتے تھے اس لیے کھانا اجلاس میں شرکت ساتھ ہی ہوتا تھا۔ ان کا لاج اورنگی کے ساتھیوں سے بھرا رہتا۔ لئیق بھائی نے اپنے لاج میں کھانے کا انتظام رکھا تھا۔ اس لیے ان کے کمرے میں ہم لوگ ساتھ ملکر کھانا کھاتے۔ اللہ تعالیٰ محمد لئیق خان کی سماجی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی اورنگی ٹاو ن ایم کیو ایم اورنگی کے کے ساتھ اور ان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز