مستقبل میں انٹرویوز اور بھرتیوں میں اے آئی کورسز شرط بننے کا امکان ہے، وفاقی وزیر تعلیم
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
کراچی:
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ مستقبل میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے انٹرویوز اور بھرتیوں میں فنی تعلیم کو لازمی قرار دیا جا سکتا ہے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے کورسز بھی شرط بننے کا امکان ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں علیگڑھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پانچویں سالانہ گریجویشن تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہ کہ ادانشور کہتے ہیں 30 برسوں میں دنیا بہت تبدیل ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے اگلے سال ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے انٹرویوز کے لیے اشتہار دیں گے اور اشتہار میں فنی تعلیم لازمی قرار ہوگی اور شاید آرٹیفیشل انٹیلیجنس کورس بھی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس تبدیلی میں کوئی تبدیل نہیں ہوا تو ایک ارب لوگ غیرمتعلقہ ہوجائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی شناخت کے حوالے سے بڑی شرمندہ سی قوم ہیں، تعلیم اب جاگیردارانہ نظام کے ہاتھ میں آگئی ہے، آج دنیا کی بڑی کمپنیاں ڈگری کی شرط ختم کر رہی ہیں اور اب فنی تعلیم اور ٹیکنالوجی کی مہارت اصل ضرورت بن چکی ہے۔
انسٹیٹیوٹ کی جانب سے مجموعی طور پر 29 طلبہ کو بہترین تعلیمی کارکردگی پر میڈلز دیے گئے، سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن 2025 کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے 5 طلبہ کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔