سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے سے متعلق قانون سازی کر چکے: وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے سے متعلق قانون سازی کر چکے ہیں، آئی ایم ایف نے سرکاری ملازمین کے اثاثے سامنے لانے کا کہا ہے، یہ اضافی شرط نہیں عملی اقدام ہے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں پالیسی ساز بنائے گا، ہر سیکٹر ایکسپورٹ کرے، ہم خدمت کے لیے حاضر ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاسکو کو ہم بند کر رہے ہیں، یہ ادارہ کرپشن کا گڑھ تھا، فاٹا پاٹا میں مال فروخت نہیں ہو رہا، واپس آرہا ہے اور یہاں فروخت ہو رہا ہے، اچھے اقدامات کو سراہیں، ملک چلے گا، معیشت چلے گی اور ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سینیٹ میں آئی ایم ایف رپورٹ کا جواب دے چکا ہوں، یہ رپورٹ حکومت نے ہی تیار کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اصلاحات کی تعریف بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فارمل سیکٹر نے ہمیں کہا ہے کہ نان کمپلائنس سیکٹر کے پیچھے جائیں، پرائیویٹ سیکٹر کو ملک کو لیڈ کرنا ہوگا۔ نوکریاں پیدا کرنا سرکار کا کام نہیں ، یہ کام پرائیویٹ سیکٹر کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹارٹ اپس اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے سازگار ماحول حکومت کی ترجیح ہے، ڈیجیٹل معیشت اور ای کامرس سے کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئی، ٹیکس نیٹ میں توسیع، ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کا اعتماد بڑھا، خود کار نظام سے ٹیکس وصولی میں شفافیت اور اعتماد میں اضافہ خوش آئند ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کی معاشی ٹیم کی محنت اور کاوشوں کی بدولت بدعنوانی میں نمایاں حد تک کمی آئی، این ایف سی ایوارڈ پر پچھلے ہفتے اجلاس ہوا، سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بحال ہونے سے بزنس کو فروغ ملا، چاروں صوبائی وزرائے خزانہ سے بہت اچھے ماحول میں بات ہوئی۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے 8 گروپ میں سے 2 وفاق اور 6 صوبوں کے پاس ہیں، اگلے سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر کی طرح لاہور میں بھی ریسرچ سیل بنائیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مہنگائی ابھی قابو میں ہے۔
قومی ایئر لائن کی نیلامی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن کی نیلامی 23 دسمبر کو ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب کا کہنا کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔