افغانستان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرات، ہمسایہ ممالک کل سر جوڑ کر بیٹھیں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
سٹی 42 : افغانستان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر ہمسایہ ممالک کل سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی کانفرنس کل تہران میں ہوگی، بتایا گیا ہے کہ یہ بیٹھک ایران کی جانب سے پاکستان افغان طالبان تناو میں کمی کی کوشیشوں کا حصہ ہے ۔ افغانستان پر خصوصی نمائندے کل ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق، کابل میں پاکستانی سفیر عبید الرحمان نظامانی، تہران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ روسی نمائندہ خصوصی ضمیر کابلوو، چینی نمائندہ خصوصی یوئی ژیاوینگ بھی شریک ہوں گے۔ اس کے علاوہ کل کے اجلاس میں ازبکستان, ترکمانستان اور تاجکستان کے صدور کے خصوصی نمائندے بھی شامل ہوں گے ۔
ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ ڈاکٹر سید عباس عراقچی اجلاس سے خصوصی خطاب کریں گے۔
اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔