اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ اپنے سٹاف رپورٹرسے )وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان اور ترکمانستان کے مابین تجارتی اور اقتصادی روابط سمیت دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم اور زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے روابط بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے ترکمانستان کو کراچی اور گوادر کی بندر گاہوں کے ذریعے اپنی رسائی کو بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جمعرات کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی اشک آباد آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا ان کی   ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف سے دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی 30 ویں سالگرہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے 2025ء کو امن اور اعتماد کا بین الاقوامی سال قرار دینے پر ترکمان صدر کو مبارکباد دی۔ پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات  بالخصوص  تجارتی اور اقتصادی روابط   کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے رواں برس کے آغاز پر ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستانی شہریوں کو ایران سے بحفاظت نکالنے کے لیے تعاون پر ترکمانستان کی قیادت اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے ترکمانستان کے ساتھ زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے روابط بڑھانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا اور کہا کہ کراچی اور گوادر  کی بندرگاہوں  کا جغرافیہ مثالی ہے جسے ترکمانستان  جنوبی ایشیا اور اس سے باہر اپنی رسائی کو بڑھانے کے لیے بروئے کار لا سکتا ہے۔ پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی پر ترکمانستان کے صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے  ترکمانستان کے عوام کے قومی رہنما گربنگولی بردی محمدوف کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے ترکمانستان کے عوام کے قومی رہنما اور صدر سردار بردی محمدوف کو آئندہ برس  پاکستان کا سرکاری دورے کرنے کی دعوت کا اعادہ بھی کیا۔ ترکمانستان کے صدر نے وزیر اعظم کے دورے اور امن و اعتماد کے بین الاقوامی فورم میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترکمانستان پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔ قبل ازیں  وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے ملاقات کی۔ واپڈا کی زیر نگرانی جاری ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بریف کیا۔ ملاقات میں واپڈا سے متعلق دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دریں اثناء  وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس محصولات کے اہداف کے حصول کے لئے ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے امور بارے ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس محصولات کے اہداف کے حصول، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس چوری کے خلاف اقدامات کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔انہوں نے ہدایت دی کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کے 11 فیصد کے ہدف کے حصول کیلئے کوششیں تیز کی جائیں اور ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کسٹمز کلیئرنس میں جدید ٹیکنالوجی اور اے آئی کے استعمال سے کلیئرنس کے دورانیے میں خاطر خواہ کمی کو سراہا اور ہدایت دی کہ درآمدات اور برآمدات کی کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف نے ڈاکٹر وردہ قتل کیس کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبر پی کے سے رپورٹ طلب کرلی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے واقعہ پر دلی غم کا اظہار کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ترکمانستان کے صدر شہباز شریف شریف نے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ