نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا 56واں اجلاس: عدالتی اصلاحات اور جدید اقدامات پر زور
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا 56واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں عدالتی نظام میں اصلاحات، مقدمات کی جلد نمٹار اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم: سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی ازسرِنو تشکیل
اجلاس میں جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر مؤثر ادارہ جاتی ردعمل دینے اور گرفتار ملزم کو 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کرنے کی صورت میں نیا میکنزم لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمرشل مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے کمرشل لٹیگیشن کوریڈور نافذ کرنے اور ایف بی آر میں اسکریننگ کمیٹی اور غیر ضروری مقدمات کے خاتمے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
مقدمات کے فیصلوں کے لیے مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عملدرآمد کرنے اور ضلعی عدلیہ میں اصلاحات کی سفارشات 30 دن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ نے 4 لاکھ 65 ہزار سے زائد مقدمات نمٹا کر ریکارڈ قائم کیا جبکہ پشاور ہائی کورٹ میں وراثتی مقدمات اور ڈبل ڈاکٹ نظام کی تعریف کی گئی اور 2019 تک کے تمام پرانے وراثتی کیسز 30 دن میں نمٹانے کی ہدایت دی گئی۔
ماڈل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کو سرفہرست قرار دیا گیا۔ عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے لیے قومی گائیڈ لائنز تیار کرنے اور تمام ضلعی عدالتوں میں ای فائلنگ کے فوری آغاز کی منظوری دی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ کو ای فائلنگ اقدامات پر سراہا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ججز میڈیا پر بات نہیں کر سکیں گے، سپریم جوڈیشل کونسل نے ترمیم شدہ ضابطہ اخلاق جاری کردیا
خواتین اور خاندانی سہولت مراکز کے قیام کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ ایکسیس ٹو جسٹس فنڈ کے تحت 2 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد فنڈز جاری کیے گئے۔ عدالتوں کی سولرائزیشن کے لیے صوبائی حکومتوں سے اضافی فنڈز لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ اجلاس میں عدلیہ کی استعداد بڑھانے، مقدمات کی رفتار اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے جامع اور عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی اقدامات پر ہائی کورٹ کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔