بچے سے زیادتی کے مرتک مجرم کی 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
سپریم کورٹ نے 8 سالہ بچے سے زیادتی کیس میں ملزم عاصم گل فراز کی درخواست خارج کردی۔ملزم کی 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 8 سالہ بچے سے زیادتی کیس میں ملزم عاصم گل فراز کی درخواست خارج کرتے ہوئے ملزم کی 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا برقرار رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بچے سے زیادتی کا الزام، ایس پی رپورٹ میں نور محد دمڑ کو بری الذمہ قرار
جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس کی سماعت کی، سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بچے کی گواہی میڈیکل اور ڈی این اے شواہد سے مطابقت رکھتی ہے۔شواہد میں کوئی تضاد یا قانونی نقص ثابت نہیں ہوا۔
سپریم کورٹ کے مطابق متاثرہ والدہ نے بتایا بچہ گھر لوٹا تو گردن پر خراشیں اور پریشان حالت میں تھا۔ متاثرہ بچے نے بتایا کہ ملزم پتنگ اور کنچے دینے کا جھانسہ دے کر لے گیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم بچے کو زیر تعمیر دکان میں لے گیا جہاں زیادتی کی گئی، اڈیالہ جیل میں شناختی پریڈ ہوئی، متاثرہ بچے نے ملزم کی شناخت کی۔
سپریم کورٹ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے 12 اپریل 2021 کو عاصم گل فراز کو مجرم قرار دیا، ٹرائل کورٹ نے 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 4 اگست 2021 کو دونوں اپیلیں مسترد کر دیں ۔ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزا برقرار رکھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بچے سے زیادتی زیادتی کیس سپریم کورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بچے سے زیادتی زیادتی کیس سپریم کورٹ سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بچے سے زیادتی کی سزا برقرار سپریم کورٹ زیادتی کی کورٹ نے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔