سازشی عناصر آج بھی عمران خان کو واپس لانے کی کوشش میں ہیں: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
سیالکوٹ: وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ بعض سازشی عناصر اب بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ان کے بقول یہ تمام منصوبے اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید بانی پی ٹی آئی کے سیاسی منصوبے کے مرکزی انچارج تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فیض حمید کور کمانڈر پشاور تھے تو انہوں نے عمران خان کی سیاست کو تقویت دی، جبکہ دھاندلی کے ذریعے انہی کی نگرانی میں عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا۔ خواجہ آصف کے مطابق اس منصوبے میں دیگر شخصیات بھی شامل رہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے چار سالہ دور میں ملک کے ساتھ سنگین کھلواڑ کیا گیا، جس کے ذمہ دار عمران خان اور فیض حمید تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام جانتے ہیں کہ اس دور میں کیا کارکردگی دکھائی گئی، حتیٰ کہ پارلیمنٹ کو بھی آئی ایس آئی کا ذیلی ادارہ بنا دیا گیا تھا۔
خواجہ آصف کے مطابق فیض حمید کا منصوبہ وقت کے ساتھ بے نقاب ہونا شروع ہوا اور بانی پی ٹی آئی کے لیے 9 مئی کے واقعات برپا کیے گئے، جن کے پیچھے بھی فیض حمید کی منصوبہ بندی کارفرما تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 9 مئی کی تباہی فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کا مشترکہ منصوبہ تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین کو فیض حمید کے ذریعے جیلوں میں ڈلوایا گیا اور ملک کے ساتھ ایک نہایت خطرناک کھیل کھیلا گیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ برقرار رہتا تو ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا، اس لیے ان عناصر کو انجام تک پہنچانا ناگزیر ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ احتساب صرف چند افراد تک محدود نہیں ہوگا بلکہ بیوروکریسی اور دیگر اداروں میں چھپے عناصر کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق فوج نے خود فیض حمید کا ٹرائل کیا اور تقریباً 15 ماہ میں مقدمہ مکمل کر کے سزا سنائی گئی، جو قانون کی بالادستی کا ثبوت ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو افواج اور شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی، حالانکہ یہی افواج بعد میں آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے عوام کا سر فخر سے بلند کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیض حمید اور بانی پی ٹی آئی کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو ملک کے حالات کہیں زیادہ خراب ہو سکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مئی کے مہینے میں پاکستان کی نئی تاریخ رقم ہوئی، جس پر قوم کو فخر ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے عناصر کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو یہ ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ فیض حمید کو سزا کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے، تاہم نواز شریف کو ماضی میں ایسی سہولت میسر نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کو مشکل حالات سے نکالا اور فوجی قیادت نے سویلین حکومت کا بھرپور ساتھ دیا۔
آخر میں خواجہ آصف نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف مزید الزامات بھی زیرِ سماعت ہیں، جن میں 9 مئی کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاست میں آج بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو ماضی کی سازشوں کا حصہ رہے، اور ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیب کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا اور ان پر نواز شریف کے خلاف بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، انکار پر انہیں قید کا سامنا کرنا پڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور بانی پی ٹی ا ئی ان کا کہنا تھا کہ خواجہ ا صف وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے فیض حمید ا ئی کا کے لیے ملک کے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔