بھارتی سپریم کورٹ نے شبیر شاہ کی درخواست ضمانت پر سماعت 7 جنوری تک ملتوی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
این آئی اے نے ان کے خلاف سینکڑوں صفحات پر مشتمل فرد جرم دائر کر رکھی ہے لیکن وہ سینئر حریت رہنما کےخلاف آج تک ایک بھی ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی سپریم کورٹ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ کی ایک جھوٹے مقدمے میں درخواست ضماعت پر سماعت اگلے برس 7جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق شبیر احمد شاہ کو این آئی اے نے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر رکھا ہے۔ این آئی اے نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی عدم دستیابی کا حوالہ دیتے ہوئے سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت مسترد کر چکی ہے۔ یاد رہے کہ شبیر احمد شاہ گزشتہ آٹھ برس سے زائد عرصے سے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربند ہیں۔ ”این آئی اے“ نے ان کے خلاف سینکڑوں صفحات پر مشتمل فرد جرم دائر کر رکھی ہے لیکن وہ سینئر حریت رہنما کےخلاف آج تک ایک بھی ثبوت فراہم نہیں کر سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شبیر احمد شاہ آئی اے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔