دہلی فسادات: عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
ملزمان نے فروری 2020ء کے فسادات کی بڑی سازش سے متعلق کیس میں ضمانت دینے سے انکار کرنے والے دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے فروری 2020ء کے دہلی فسادات سے متعلق "یو اے پی اے" کیس میں کارکنوں عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر آج اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو، سینیئر وکیل کپل سبل، ابھیشیک سنگھوی، سدھارتھ ڈیو، سلمان خورشید، اور سدھارتھ لوتھرا کے دلائل سنے۔ دہلی پولیس نے عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فروری 2020ء کے فسادات بے ساختہ نہیں تھے بلکہ یہ بھارت کی خودمختاری پر حملہ کرنے کے لئے پہلے سے سوچے سمجھے کئے گئے تھے۔
عمر خالد، شرجیل امام اور دیگر ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967 اور اس وقت کے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان پر 2020ء کے فسادات کے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔ ملزمان نے فروری 2020ء کے فسادات کی بڑی سازش سے متعلق کیس میں ضمانت دینے سے انکار کرنے والے دہلی ہائی کورٹ کے 2 ستمبر کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: 2020ء کے فسادات فروری 2020ء کے شرجیل امام عمر خالد
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔