قتل ؛را: فنڈنگ کیس ملزمان کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک) سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو قتل،بھارتی خفیہ ایجنسی را سےفنڈنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قتل اور بھارتی خفیہ ایجنسی را سے فنڈنگ کے مقدمے میں ملزمان کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
کراچی سینٹرل جیل انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو قتل اور بھارتی خفیہ ایجنسی راء سے فنڈنگ کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
جیل حکام نے کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں صبغت اللہ، شیراز اور طلعت کو پیش کیا۔ ملزمان کے وکلا نے درخواست دائر کیں۔
وکیل صفائی نے موقف دیا کہ ملزم طلعت اقبال سے برآمد ذاتی اشیاء واپس دی جائیں۔ ملزمان کے شناختی کارڈ اور بینک کارڈ واپس کئے جائیں۔
رینجرز پراسیکیوٹر رانا خالد نے موقف اپنایا کہ ملزم کے موبائل فون کا فرانزک ہونا ہے وہ واپس نہیں ہوسکتا۔ بینک کارڈ سے دہشتگردں کی مالی مدد ہوسکتی ہے۔ ملزمان کے شناختی کارڈ واپس کردیئے جائیں۔
ملزمان کے موبائل فونزکی فرانزک ہوگی تو کیس آگے بڑے گا۔ عدالت نے ملزمان کی 2 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے بھارتی طیارہ اغوا کرنے والے شخص کو قتل کیا۔ ملزمان نے واردات کیلئے بھارتی خفیہ ادارے سے فنڈز حاصل کئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی خفیہ ملزمان کے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔