محراب پور:پریس کلب نوشہروفیروز پر مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محراب پور(جسارت نیوز)نیشنل پریس کلب نوشہرو فیروز پر مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ، چوکیدار نے بھاگ کر جان بچائی، حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے فرار،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی صحافی نیشنل پریس کلب پہنچ گئے، این پی پی آفس پر حملے کیخلاف ضلع بھر سے آئے صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت نیشنل پریس کلب کے صدر ایم ظفر تگڑ، پریس کلب نوشہرو فیروز کے صدر محمد یونس راجپر اور دیگر نے کی،فائرنگ کے واقعہ اور صحافیوں کے احتجاج پر ایس ایچ او راجہ نوید سرفراز، ڈی ایس پی سردار چانڈیوکے بعدایس ایس پی نوشہرو فیروز میرروحل خان کھوسو بھی پہنچ گئے ، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی نے کہا کہ نیشنل پریس کلب پر حملہ کرنے والے حملہ آوروں کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور ہم تفتیش کرکے پتہ چلائیں گے کہ حملہ کیوں اور کس مقصد کیلئے کیا گیا،صحافیوں سمیت ہر کسی کو تحفظ فراہم کرنا پولیس کا فرض ہے جو ہم ہر صورت کریں گے جس کے بعد صحافیوں نے ایس ایس پی کو تین دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے ایس ایس پی آفس کے سامنے اعلان کردہ احتجاج ملتوی کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیشنل پریس کلب ایس ایس پی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔