ایرانی کرنسی بحران کا شکار‘ ایک امریکی ڈالر 12 لاکھ ریال کاہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایرانی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی،جس کے بعد ایک امریکی ڈالر 12 لاکھ ایرانی ریال کا ہو گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جوہری پابندیوں نے ایران کی معیشت کو مزید نچوڑ لیا ہے، ملک کی کرنسی ریال ایک بار پھر ریکارڈ گراوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ خوارک کی قیمتوں اور اشیا ضروریہ کو پر لگے گئے ہیں، دکان داروں کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر نرخ بڑھ رہے ہیں جب کہ عوام شدید پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق عالمی پابندیوں، سیاسی کشیدگی اور درآمدی دباؤ کے باعث ریال تیزی سے اپنی قدر کھو رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر ملک میں مہنگائی کی نئی لہر کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورت حال کے سبب شہری بڑی تعداد میں ڈالر اور دیگر غیر ملکی کرنسیاں خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس نے ریال پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :