Express News:
2026-06-03@08:42:03 GMT

الامراض والعلاج اورہلکا پھلکا کرنا

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

ہمارے کچھ پڑھنے والے بڑے زورآورہوتے ہیں کہیں دوربہت دورکسی بھولے بسرے کالم کاحوالہ دے کر اسے ری بیٹ یا ری رائٹ (rewrite) کرنے کی فرمائش کردیتے ہیں ۔جانتے نہیں کہ ہم نہایت ہی بے ترتیب اورمنتشر قسم کے خانہ بدوش ہیں جو لکھ دیا سو لکھ دیا اوربھول گئے ،اس لمبے عرصے میں بہت ہی پیارے پیارے لوگوں کے خطوط بڑے قیمتی مضامین اورپوری کتابیں تک زینت طاق نسیاں کرچکے ہیں ۔

جو آنے والا پل اس کو کس نے دیکھا

 جوجانے والا پل کس نے اس کو روکا ہے

 بہت لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان تحریروں کو کتابی صورت میں کیوں نہیں چھاپتے ۔

نہ سمجھے کہ مجبوریاں اپنی کہاں ہیں

 زمین آسمان ہم سے دونوں خفا ہیں

 لیکن یہ اچھا ہے کہ موضوع ہمیں یاد آجاتا ہے بس پھر کیا ہے پکار اٹھتے ہیں کہ ’’غنچے‘‘ذرا لانا تو میرا قلم دان۔

اب کہ ایک قاری نے اس کالم کے بارے میںفرمائش کی ہے جس کا عنوان تھا ۔

’’مرض سے نہیں علاج سے ماریں گے ‘‘

اچھا ہوا کہ اس موضوع میں کچھ اوریہ اضافے بھی ہوچکے ہیں علاج کچھ اورجدید ہوگیا ہے ۔

ہمارے نہایت ہی معتبر ذریعے نے بتایا ہے کہ کسی نامعلوم مقام پر کسی نامعلوم تاریخ کو دواساز کمپینوں اورمسیحاؤں کے درمیان یہ ’’طے پا‘‘ گیا تھا کہ کسی بھی مریض کو جو ہتھے چڑھ جائے مرض سے نہیں مرنے دیں گے بلکہ علاج سے ماریں گے لیکن اب تازہ ترین مینٹگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ علاج سے ماریں گے لیکن ہرقسم کے بوجھ ہلکا کرکے ماریں گے یہ قرارداد پیش کرنے والے نے غالباً استاد قمرجلالوی کا یہ شعر پڑھا تھا کہ ؎

 اب نزع کاعالم طاری ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو

 جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

اس بات کو ذرا تاریخی ٹچ بھی دیتے ہیں۔ سکندریہ کاایک فلسفی تھا فلاطینوس، اس نے تصوف کے اس نظرئیے کو بڑا پھیلا دیا تھا جیسے ’’نو فلاطونیت‘‘ کہتے ہیں اوروحدت الوجود سے ملتا جلتا نظریہ ہے۔

فلاطینوس کا کہنا ہے کہ ہر روح، روح اعلیٰ سے نکلی ہے ، اسے ’’فصل‘‘ یعنی جدائی کی حالت کہتے ہیں اورہر روح ایک مرتبہ پھر ’’روح اعلیٰ‘‘ میں جاکر مل جائے گی اورروح اعلیٰ کی طرف پرواز میں روح پر دنیاوی علائق کا بوجھ جنتا کم ہوگا اتنی ہی تیزی سے روع اعلیٰ کی طرف ’’پرواز‘‘ کرے گی ، مقصد ہے ’’دنیاوی‘‘ علائق کا بوجھ اس پر کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ تیز اورتیز پرواز کرکے روح اعلیٰ سے واصل ہوجائے ، گوتم بدھ کا بھی یہی نظریہ ہے ۔قمرجلالوی نے بات دوسرے پیرائے میں کی ہے لیکن بہرحال بات ’’بوجھ‘‘ اتارنے کی ہے اور ’’مسیحاؤں‘‘ اوردواسازاداروں سے مل کر اس کارخیر کافیصلہ کیا ہے کہ مریض کو ’’آخری فلائٹ‘‘ میں روانہ کرنے سے اس کاسارا بوجھ بلکہ سارے بوجھ ہلکے کیے جائیں ، ظاہرہے یہ بوجھ دنیاوی علائق ہی کے ہوتے ہیں اوردنیاوی علائق میں سب سے زیادہ وزنی بوجھ وہ ہے جسے پیسہ یا مال کہتے ہیں ۔کل ملاکر بات یہ بنی کہ مریض کو علاج کے ذریعے ایسے وداع کیاجائے کہ پرندے کی طرح بالکل ہلکا پھلکا ہو۔

اس مریض کی طرح جسے سارے علائق سے ہلکا پھلکا تو کردیاگیا تھا لیکن عین پرواز کے وقت جب اس کی فلائٹ بھی بھاگ گئی تھی۔دنیا میں وہ اچھی خاصی جائیداد کا اور مال ومتاع کامالک تھا یعنی دنیاوی علائق میں مبتلا تھا کہ اسے زکام ہوگیا ۔زکام والے ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر نے ایکسرے اورلیبارٹریوں اوردواساز کمپنیوں نے مل کر تھوڑا ہلکا پھلکا کیا، تو زکام تو ٹھیک ہوگیا لیکن کانوں کی طرف سے دیوار ہوگئی ، ڈاکٹرنے اسے کانوں کے ڈاکٹر کے پاس بھیجا کیوں کہ کانوں والے ڈاکٹر کی جانب سے کبھی بھیجے گئے وہ ایک مریض کا قرضدار تھا ، اس کو مریضوں کا میوچل ٹرانسفر بھی کہہ سکتے ہیں کہ سب آپس میں اسی طرح تبادلہ کرتے رہتے ہیں ، ہرڈاکٹر طرح طرح کا علاج کرتا ہے کہ دوسرے ڈاکٹر کے کام بھی ہو جاتے ہیں ۔

قصہ بڑا طولانی ہے لیکن عام ہے ہرکسی کو اس ہفت خوان کا پتہ ہے اس لیے قصہ مختصر یہ کہ اس مریض کو جب سات ڈاکٹر نے باری باری نچوڑا تو مریض اس تمام جسم کی سیاحت کرچکا تھا جیسے وہ کوئی مریض نہیں بلکہ کوئی مغربی سیاح ہو اور وہ اپنے جسم کی سیاحت پر نکلا ہو ، اچھی طرح سیاحت کرنے کے بعد مرض اس کی آنکھوں میں پہنچ گیا وہ جب آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر نے جلدی جلدی پرچے گھسیٹ کر ایکسرے اورچار پانچ ٹیسٹ کروانے کاکہا۔ اس پر مریض کے منہ سے نکل گیا ، کہ آنکھوں کے ایکسرے کا نہ کہیں دیکھا سنا ہے، اس پر ڈاکٹر غصے میں آکر بولا ، ڈاکٹر میں ہوں یا تم ؟

خیربڑی مشکل سے مریض نے ڈاکٹر کو شانت کیااورپھر سب کچھ کروا کے لے آیا ،اچھا ہوا کہ سب کچھ پاس ہی تھا اوروہ لیب والے سارے ڈاکٹر کے بھائی، بھتیجے یا بھانجے تھے لیکن آخر میں جب وہ دواؤں کی دکان پر گیا جس میں ڈاکٹر کا بیٹا براجمان تھا اوراس نے جو دوائیاں اس کے سامنے رکھیں ان میں تیس انجکشن، چارگولیوں کے ڈبے، چار شربت اورآٹھ آنکھوں میں ڈالنے کے ڈراپس تھے۔ مریض یہ سب دیکھ کر ناچنے لگا تو ڈاکٹر نے اسے دماغی ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔ چنانچہ تازہ ترین قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ مرض سے نہیں مرنے دیں گے ، علاج سے ماریں گے اوردنیاوی علائق سے ہلکا پھلکا کرکے آخری سفر پر بھیجیں گے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علاج سے ماریں گے ڈاکٹر کے پاس روح اعلی کہتے ہیں ڈاکٹر نے مریض کو ا نکھوں ہیں کہ

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شاہ چارلس کے کینسر کا علاج جاری، شہزادہ ولیم نے ’شیڈو کنگ‘ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں
  • کراچی کی سڑکوں پر دلچسپ تبصرہ، شرمیلا فاروقی اور وسیم بادامی کے درمیان ہلکا پھلکا مکالمہ
  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم