Express News:
2026-07-24@05:52:59 GMT

الامراض والعلاج اورہلکا پھلکا کرنا

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

ہمارے کچھ پڑھنے والے بڑے زورآورہوتے ہیں کہیں دوربہت دورکسی بھولے بسرے کالم کاحوالہ دے کر اسے ری بیٹ یا ری رائٹ (rewrite) کرنے کی فرمائش کردیتے ہیں ۔جانتے نہیں کہ ہم نہایت ہی بے ترتیب اورمنتشر قسم کے خانہ بدوش ہیں جو لکھ دیا سو لکھ دیا اوربھول گئے ،اس لمبے عرصے میں بہت ہی پیارے پیارے لوگوں کے خطوط بڑے قیمتی مضامین اورپوری کتابیں تک زینت طاق نسیاں کرچکے ہیں ۔

جو آنے والا پل اس کو کس نے دیکھا

 جوجانے والا پل کس نے اس کو روکا ہے

 بہت لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان تحریروں کو کتابی صورت میں کیوں نہیں چھاپتے ۔

نہ سمجھے کہ مجبوریاں اپنی کہاں ہیں

 زمین آسمان ہم سے دونوں خفا ہیں

 لیکن یہ اچھا ہے کہ موضوع ہمیں یاد آجاتا ہے بس پھر کیا ہے پکار اٹھتے ہیں کہ ’’غنچے‘‘ذرا لانا تو میرا قلم دان۔

اب کہ ایک قاری نے اس کالم کے بارے میںفرمائش کی ہے جس کا عنوان تھا ۔

’’مرض سے نہیں علاج سے ماریں گے ‘‘

اچھا ہوا کہ اس موضوع میں کچھ اوریہ اضافے بھی ہوچکے ہیں علاج کچھ اورجدید ہوگیا ہے ۔

ہمارے نہایت ہی معتبر ذریعے نے بتایا ہے کہ کسی نامعلوم مقام پر کسی نامعلوم تاریخ کو دواساز کمپینوں اورمسیحاؤں کے درمیان یہ ’’طے پا‘‘ گیا تھا کہ کسی بھی مریض کو جو ہتھے چڑھ جائے مرض سے نہیں مرنے دیں گے بلکہ علاج سے ماریں گے لیکن اب تازہ ترین مینٹگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ علاج سے ماریں گے لیکن ہرقسم کے بوجھ ہلکا کرکے ماریں گے یہ قرارداد پیش کرنے والے نے غالباً استاد قمرجلالوی کا یہ شعر پڑھا تھا کہ ؎

 اب نزع کاعالم طاری ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو

 جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

اس بات کو ذرا تاریخی ٹچ بھی دیتے ہیں۔ سکندریہ کاایک فلسفی تھا فلاطینوس، اس نے تصوف کے اس نظرئیے کو بڑا پھیلا دیا تھا جیسے ’’نو فلاطونیت‘‘ کہتے ہیں اوروحدت الوجود سے ملتا جلتا نظریہ ہے۔

فلاطینوس کا کہنا ہے کہ ہر روح، روح اعلیٰ سے نکلی ہے ، اسے ’’فصل‘‘ یعنی جدائی کی حالت کہتے ہیں اورہر روح ایک مرتبہ پھر ’’روح اعلیٰ‘‘ میں جاکر مل جائے گی اورروح اعلیٰ کی طرف پرواز میں روح پر دنیاوی علائق کا بوجھ جنتا کم ہوگا اتنی ہی تیزی سے روع اعلیٰ کی طرف ’’پرواز‘‘ کرے گی ، مقصد ہے ’’دنیاوی‘‘ علائق کا بوجھ اس پر کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ تیز اورتیز پرواز کرکے روح اعلیٰ سے واصل ہوجائے ، گوتم بدھ کا بھی یہی نظریہ ہے ۔قمرجلالوی نے بات دوسرے پیرائے میں کی ہے لیکن بہرحال بات ’’بوجھ‘‘ اتارنے کی ہے اور ’’مسیحاؤں‘‘ اوردواسازاداروں سے مل کر اس کارخیر کافیصلہ کیا ہے کہ مریض کو ’’آخری فلائٹ‘‘ میں روانہ کرنے سے اس کاسارا بوجھ بلکہ سارے بوجھ ہلکے کیے جائیں ، ظاہرہے یہ بوجھ دنیاوی علائق ہی کے ہوتے ہیں اوردنیاوی علائق میں سب سے زیادہ وزنی بوجھ وہ ہے جسے پیسہ یا مال کہتے ہیں ۔کل ملاکر بات یہ بنی کہ مریض کو علاج کے ذریعے ایسے وداع کیاجائے کہ پرندے کی طرح بالکل ہلکا پھلکا ہو۔

اس مریض کی طرح جسے سارے علائق سے ہلکا پھلکا تو کردیاگیا تھا لیکن عین پرواز کے وقت جب اس کی فلائٹ بھی بھاگ گئی تھی۔دنیا میں وہ اچھی خاصی جائیداد کا اور مال ومتاع کامالک تھا یعنی دنیاوی علائق میں مبتلا تھا کہ اسے زکام ہوگیا ۔زکام والے ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر نے ایکسرے اورلیبارٹریوں اوردواساز کمپنیوں نے مل کر تھوڑا ہلکا پھلکا کیا، تو زکام تو ٹھیک ہوگیا لیکن کانوں کی طرف سے دیوار ہوگئی ، ڈاکٹرنے اسے کانوں کے ڈاکٹر کے پاس بھیجا کیوں کہ کانوں والے ڈاکٹر کی جانب سے کبھی بھیجے گئے وہ ایک مریض کا قرضدار تھا ، اس کو مریضوں کا میوچل ٹرانسفر بھی کہہ سکتے ہیں کہ سب آپس میں اسی طرح تبادلہ کرتے رہتے ہیں ، ہرڈاکٹر طرح طرح کا علاج کرتا ہے کہ دوسرے ڈاکٹر کے کام بھی ہو جاتے ہیں ۔

قصہ بڑا طولانی ہے لیکن عام ہے ہرکسی کو اس ہفت خوان کا پتہ ہے اس لیے قصہ مختصر یہ کہ اس مریض کو جب سات ڈاکٹر نے باری باری نچوڑا تو مریض اس تمام جسم کی سیاحت کرچکا تھا جیسے وہ کوئی مریض نہیں بلکہ کوئی مغربی سیاح ہو اور وہ اپنے جسم کی سیاحت پر نکلا ہو ، اچھی طرح سیاحت کرنے کے بعد مرض اس کی آنکھوں میں پہنچ گیا وہ جب آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس گیا تو ڈاکٹر نے جلدی جلدی پرچے گھسیٹ کر ایکسرے اورچار پانچ ٹیسٹ کروانے کاکہا۔ اس پر مریض کے منہ سے نکل گیا ، کہ آنکھوں کے ایکسرے کا نہ کہیں دیکھا سنا ہے، اس پر ڈاکٹر غصے میں آکر بولا ، ڈاکٹر میں ہوں یا تم ؟

خیربڑی مشکل سے مریض نے ڈاکٹر کو شانت کیااورپھر سب کچھ کروا کے لے آیا ،اچھا ہوا کہ سب کچھ پاس ہی تھا اوروہ لیب والے سارے ڈاکٹر کے بھائی، بھتیجے یا بھانجے تھے لیکن آخر میں جب وہ دواؤں کی دکان پر گیا جس میں ڈاکٹر کا بیٹا براجمان تھا اوراس نے جو دوائیاں اس کے سامنے رکھیں ان میں تیس انجکشن، چارگولیوں کے ڈبے، چار شربت اورآٹھ آنکھوں میں ڈالنے کے ڈراپس تھے۔ مریض یہ سب دیکھ کر ناچنے لگا تو ڈاکٹر نے اسے دماغی ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔ چنانچہ تازہ ترین قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ مرض سے نہیں مرنے دیں گے ، علاج سے ماریں گے اوردنیاوی علائق سے ہلکا پھلکا کرکے آخری سفر پر بھیجیں گے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علاج سے ماریں گے ڈاکٹر کے پاس روح اعلی کہتے ہیں ڈاکٹر نے مریض کو ا نکھوں ہیں کہ

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن