بنگلادیش (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو 5 روز قبل اسپتال میں داخل کیا گیا اور پھر انھیں وینٹی لیٹر پر بھی منتقل کرنا پڑا لیکن طبیعت سنبھل نہ سکی جس پر اہل خانہ نے بڑا فیصلہ کرلیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے علاج معالجے کے لیے ہمہ وقت ماہر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم موجود رہتی ہے۔

ان کے مسلسل ٹیسٹس کرائے جا رہے ہیں اور ہر ممکن علاج جاری ہے۔ چین سے بھی ڈاکٹرز کی ٹیم آئی اور معائنے کے بعد کچھ ٹیسٹس اور دوائیں تجویز کیں۔

سابق وزیراعظم کو مسلسل آبزرویشن پر بھی رکھا گیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا بلکہ طبیعت مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔

جس کے بعد اب اہل خانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو بہتر علاج کے لیے لندن منتقل کیا جائے۔

بنگلادیش کے میڈیکل بورڈ نے بھی لندن میں علاج کی منظوری دیدی۔ انھیں کل صبح ایئر ایمبولینس کے ذریعے براستہ قطر لندن بھیجا جائے گا۔

خالدہ ضیا کے ساتھ ان کی بہو کے ساتھ ساتھ جماعت کے عبوری سربراہ طارق رحمان، ان کی اہلیہ ڈاکٹر زبیدہ رحمان، اسپیشل فورس کے 2 اہلکار اور ایک مشیر بھی ہوں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس طلبا تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کے آمرانہ دور کا خاتمہ ہوا اور وہ بھارت فرار ہوگئیں تو خالدہ ضیا کو جیل سے 6 سال بعد رہائی ملی تھی۔

2018 سے قید خالدہ ضیا کی اسیری کے دوران ہی طبیعت خراب ہوگئی تھی لیکن شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے انھیں ملک سے باہر علاج کے لیے جانے نہیں دیا تھا۔

خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے طارق رحمان 2008 سے لندن میں جلاوطن ہیں انھوں نے ایک بار پھر عوام سے والدہ کی صحت کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم

سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ