سابق بنگلادیشی وزیراعظم کی طبیعت سنبھل نہ سکی؛ اہل خانہ نے اہم فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو 5 روز قبل اسپتال میں داخل کیا گیا اور پھر انھیں وینٹی لیٹر پر بھی منتقل کرنا پڑا لیکن طبیعت سنبھل نہ سکی جس پر اہل خانہ نے بڑا فیصلہ کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے علاج معالجے کے لیے ہمہ وقت ماہر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم موجود رہتی ہے۔
ان کے مسلسل ٹیسٹس کرائے جا رہے ہیں اور ہر ممکن علاج جاری ہے۔ چین سے بھی ڈاکٹرز کی ٹیم آئی اور معائنے کے بعد کچھ ٹیسٹس اور دوائیں تجویز کیں۔
سابق وزیراعظم کو مسلسل آبزرویشن پر بھی رکھا گیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا بلکہ طبیعت مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔
جس کے بعد اب اہل خانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو بہتر علاج کے لیے لندن منتقل کیا جائے۔
بنگلادیش کے میڈیکل بورڈ نے بھی لندن میں علاج کی منظوری دیدی۔ انھیں کل صبح ایئر ایمبولینس کے ذریعے براستہ قطر لندن بھیجا جائے گا۔
خالدہ ضیا کے ساتھ ان کی بہو کے ساتھ ساتھ جماعت کے عبوری سربراہ طارق رحمان، ان کی اہلیہ ڈاکٹر زبیدہ رحمان، اسپیشل فورس کے 2 اہلکار اور ایک مشیر بھی ہوں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس طلبا تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کے آمرانہ دور کا خاتمہ ہوا اور وہ بھارت فرار ہوگئیں تو خالدہ ضیا کو جیل سے 6 سال بعد رہائی ملی تھی۔
2018 سے قید خالدہ ضیا کی اسیری کے دوران ہی طبیعت خراب ہوگئی تھی لیکن شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے انھیں ملک سے باہر علاج کے لیے جانے نہیں دیا تھا۔
خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے طارق رحمان 2008 سے لندن میں جلاوطن ہیں انھوں نے ایک بار پھر عوام سے والدہ کی صحت کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔