بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے امیر اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی خالدہ ضیا کی عیادت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال میں زیر علاج بی این پی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کی عیادت کی۔
ملاقات کے دوران انہوں نے خالدہ ضیا کے جاری علاج اور مجموعی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے اس مشکل وقت میں ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر اور ہمت کی دعا کی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے طارق رحمان شدید علیل والدہ سے کب ملیں گے؟
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ چونکہ وہ اپنی بیماری کے باوجود ثابت قدم ہیں، اس لیے ہم پُرامید ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ وہ جلد صحت یاب ہوں۔
انہوں نے بیگم خالدہ ضیا کی فوری اور مکمل صحت یابی کے لیے دل سے دعائیں کیں۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے چاہنے والوں سے اپیل کی کہ اسپتال کے احاطے میں ایسی بھیڑ نہ لگائیں جو نظم و ضبط کو متاثر کرے یا کسی کے لیے تکلیف کا باعث بنے، بلکہ انہوں نے درخواست کی کہ سب لوگ بیگم خالدہ ضیا کی صحت اور خیریت کے لیے دعا جاری رکھیں۔
واضح رہے کہ بیگم خالدہ ضیا شدید علالت کے باعث بنگلہ دیش کے ایک اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
بنگلہ دیش کی تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی خالدہ ضیا کی عیادتبنگلہ دیش کی آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سربراہوں نے منگل کی شب دارالحکومت ڈھاکہ کے ایور کیئر اسپتال میں بی این پی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کی عیادت کی۔
مزید پڑھیں: سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے علاج کے لیے چینی ٹیم ڈھاکہ پہنچ گئی
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز بنگلہ دیش کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ بری، بحری اور فضائی فوج کے سربراہوں نے خالدہ ضیا سے ملاقات کی اور ان کی صحتیابی کے لیے دعا کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیش جماعت اسلامی خالدہ ضیا عیادت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جماعت اسلامی خالدہ ضیا عیادت وی نیوز خالدہ ضیا کی عیادت بیگم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔