بنگلہ دیش ملٹری اکیڈمی بھاتیاری میں آج صدر کی کمانڈنگ پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 89ویں بی ایم اے لانگ کورس اور 60ویں بی ایم اے اسپیشل کورس کے آفیسر کیڈٹس نے حصہ لیا۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وقارالزمان تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا، کیڈٹس کو سلامی دی اور اعلی کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے۔

یہ بھی پڑھیں: پروفیسر یونس کے روڈ میپ کی حمایت کرتے ہیں، نئے انتخابات کے بعد استحکام آئےگا، بنگلہ دیشی فوج

نئے کمیشن یافتہ افسران سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ انہوں نے اپنی قسم کے ذریعے ملک کی آزادی اور خودمختاری کے دفاع کی مقدس ذمہ داری قبول کی ہے۔

انہوں نے بنگلہ دیش آرمی کو جدید فوجی ٹیکنالوجی سے لیس، تربیت یافتہ اور منظم قوت میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے بی ایم اے کے کمانڈنٹ اور تمام افسران، این سی اوز، جے سی اوز، سپاہیوں اور سول اسٹاف کا شاندار پریڈ کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔

مزید پڑھیں: قومی مفاد سب سے مقدم، ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، بنگلہ دیشی فوج کا عزم

سخت فوجی تربیت کے بعد کل 204 کیڈٹس نے کمیشن حاصل کیا، جن میں 184 کیڈٹس 89ویں لانگ کورس سے اور 20 کیڈٹس 60ویں اسپیشل کورس سے تھے۔

اس بیچ میں 183 مرد اور 21 خواتین افسران شامل ہیں۔

کمپنی سینیئر انڈر آفیسر اعظمین اشراق کو بہترین کیڈٹ کے طور پر ’سوورڈ آف آنر‘ اور فوجی تعلیم میں بہترین کارکردگی کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف کا گولڈ میڈل دیا گیا۔

پریڈ کے بعد، نئے کمیشن یافتہ افسران نے ملک کی خودمختاری کے تحفظ کی رسمی قسم اٹھائی، کیڈٹس کے والدین اور سرپرستوں نے نئے افسران کے رینک بیجز لگائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرمی چیف بی ایم اے چیف آف آرمی اسٹاف ڈھاکا سوورڈ آف آنر صدر کمانڈنگ پریڈ کیڈٹس گولڈ میڈل لانگ کورس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا رمی چیف بی ایم اے چیف آف آرمی اسٹاف ڈھاکا سوورڈ آف آنر کمانڈنگ پریڈ کیڈٹس گولڈ میڈل لانگ کورس بی ایم اے انہوں نے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم