ایک بدنام زمانہ ڈاکو نے کیسے چوہدری اسلم سمیت دیگر پولیس افسران کو جیل بھیجا؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے جس کی توقع نہ ہو یا جب آپ سامنے والے کو ہلکا سمجھ رہے ہوں، 90 کی دہائی میں ایک ایسا بدنام کردار وجود رکھتا تھا جس کی تلاش پولیس کے ساتھ عام شہریوں کو بھی تھی لیکن اس بدنام زمانہ ڈاکو کو پکڑنا مشکل تھا تبھی تو سندھ حکومت نے اس کے سر کی قیمت رکھی لیکن خاص بات یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی ڈاکو نہیں تھا اسی لیے تو چوہدری اسلم جیسے پولیس آفیسر بھی اس کی چال نہ سمجھ سکے۔ یہ کردار اصل میں تھا کون اور اس نے گرفتار ہونے کے بجائے پولیس افسران کو کیسے جیل میں قید کرایا؟ آئیے جانتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کراچی: منگھوپیر کی رہائشی کالونی میں پولیس مقابلہ، 5 ڈاکو ہلاک
معشوق بروہی سندھ سے تعلق رکھنے والا ایک بدنام زمانہ ڈاکو اور گینگسٹر کے طور پر مشہور تھا جو اغوا برائے تاوان اور قتل کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھا۔ وہ قریباً 15 سال سے زیادہ عرصے تک اپنی مجرمانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا اور اس کی یہ سرگرمیاں صرف ایک علاقے تک محدود نہیں تھیں بلکہ سندھ کے اضلاع کراچی، بدین، دادو اور ٹھٹھہ کے علاوہ بلوچستان کے حب اور سکران تک پھیلی ہوئی تھیں۔
معشوق بروہی پر 200 سے زیادہ اغوا برائے تاوان، قتل اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور سندھ حکومت نے ان کی گرفتاری پر 25 لاکھ سے 30 لاکھ روپے انعام بھی مقرر کر رکھا تھا۔
’معشوق بروہی کا نام جعلی پولیس مقابلوں کے ایک بڑے تنازع میں بھی سامنے آیا‘معشوق بروہی کا نام جعلی پولیس مقابلوں کے ایک بڑے تنازع میں بھی سامنے آیا، جولائی 2006 میں لیاری ٹاسک فورس کے سربراہ ایس پی چوہدری اسلم نے کراچی کے گردونواح میں ایک پولیس مقابلے میں معشوق بروہی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ مقابلے میں مارا جانے والا شخص اصل میں معشوق بروہی نہیں تھا بلکہ سکرنڈ کا رہنے والا ایک بے گناہ مزدور غلام رسول بروہی تھا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ معشوق بروہی کے چکر میں غلام رسول کیوں مارا گیا؟ اس واقعے پر سندھ بھر میں شدید احتجاج ہوا اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کا از خود نوٹس لیا، چوہدری اسلم اور دیگر پولیس افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور وہ کئی مہینوں تک جیل میں رہے۔
اس وقت ان واقعات پر رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی رجب علی نے وی نیوز کو بتایا کہ معشوق بروہی کا شمار بڑے گینگسٹرز میں ہوتا تھا، یہ اس وقت کی بات ہے جب چھوٹے اغوا کار کسی کو اغوا کرنے کے بعد بڑے اغوا کاروں کو فروخت کردیا کرتے تھے اور معشوق بروہی ایسا ہی بڑا نام تھا جس کے پاس سندھ سے بلوچستان تک سیف ہاؤسز اور بڑی جگہیں ہوا کرتی تھی۔
’سندھ پولیس نے معشوق بروہی کے سر کی قیمت مقرر کی‘رجب علی کے مطابق 2000 کے وسط میں سندھ حکومت نے اس کے سر کی قیمت مقرر کی، جنوری 2003 سے جون 2006 تک صرف سی پی ایل سی کے ریکارڈ کے مطابق معشوق بروہی 14 اغوا برائے تاوان کے مقدمات میں نامزد تھا، جن میں 26 مغوی شامل تھے اور ان کی رہائی کے لیے مجموعی طور پر قریباً 5 کروڑ روپے تاوان حاصل کیا تھا۔
معشوق بروہی پر اغوا برائے تاوان کے علاوہ قتل کے 200 سے زیادہ سنگین مقدمات تھے وہ دہشت پھیلانے کے لیے اپنے مغویوں میں سے کچھ کو تاوان ادا نہ ہونے پر قتل کردیا کرتا تھا۔
2006 کی بات ہے کہ لیاری ٹاسک فورس بڑے آب وتاب سے کام کررہی تھی، اس کے پاس لامحدود اختیارات تھے اور یہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سندھ اور بلوچستان میں کارروائی کا اختیار رکھتی تھی، معشوق بروہی نے لیاری ٹاسک فورس کو اپنے جال میں پھنسایا اور اس کے نتیجے میں معشوق بروہی کی جگہ کوئی اور شخص پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
مارے جانے والے شخص غلام رسول کے اہل خانہ کا دعویٰ تھا کہ اسے سکرنڈ میں بس سے اتار کر اغوا کیا گیا اور پھر مار دیا گیا، اب پولیس کے مطابق معشوق بروہی مارا جا چکا تھا۔
’جب معشوق بروہی سمجھ کر ایک عام شخص کو مار دیا گیا‘اس کے بعد جب ایف آئی آر سامنے آئی تو پروموشن کے لیے اس ایف آئی آر میں پولیس کارروائی کے احوال سے زیادہ افسران کے ناموں کی فہرست تھی جس میں تمام افسران یہ دعویٰ کرتے نظر آئے کہ ہم نے اس مقابلے میں حصہ لیا، کسی افسر نے 6 تو کسی نے 4 گولیاں لکھوائیں تا کہ کوئی بھی حکومتی انعامات اور پروموشن سے رہ نا سکے۔
رجب علی کے مطابق اس ایف آئی آر میں لیاری ٹاسک فورس کے قریباً تمام افسران نے کریڈٹ لینے کی کوشش کی لیکن بعد ازاں جب شور ہوا کہ یہ تو معشوق بروہی نہیں بلکہ ایک مزدور کو جعلی مقابلے میں مار دیا گیا تو ایک طوفان آگیا۔
’احتجاج شروع ہوا اور یوں عدالت نے بھی اس پر نوٹس لے لیا۔ آئی جی سندھ کی سربراہی میں ایک انکوائری ہوئی جس میں ثابت ہوا کہ یہ جعلی پولیس مقابلہ تھا اور اس پر ایکشن لینے پر پتا چلا کہ لیاری ٹاسک فورس کا تو اب صفایا ہوگیا اور یہ وجہ بنی لیاری ٹاسک فورس کو ختم کرنے کی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سی پی ایل سی کے ریکارڈ میں معشوق علی کی تصویر بھی اصل معشوق علی کی نہیں تھی۔‘
اصلی معشوق علی نے 3 بار ایسا کام کیا کہ نقلی معشوق علی بھتہ وصول کرتا رہا، ایسے واقعات سامنے آئے کہ اپنے پیاروں کو بازیاب کرانے جو جاتے تھے، وہ غلام رسول کو رقم دے کر آجاتے تھے۔
اب جب یہ لوگ پولیس کے پاس بیان دینے جاتے تو پولیس انہیں تصاویر دکھاتی اور پوچھتی ان میں سے معشوق بروہی کون ہے تو یہ لوگ غلام رسول کی تصویر کی طرف اشارہ کیا کرتے تھے، جبکہ نقلی معشوق بروہی کو اصلی معشوق علی اپنا نام دے کر آگے بھیجتا تھا اور نقلی معشوق علی پر کوئی کرمنل کیس نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کے اہلکار کو قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، 2 ساتھی گرفتار
چوہدری محمد اسلم سمیت لیاری ٹاسک فورس کے دیگر ممبران قید کاٹ کر رہا ہو چکے تھے اور قید کے دوران ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اصلی معشوق بروہی کو بھی نہیں چھوڑنا، جیل سے باہر آکر اپنا نیٹ ورک بحال کیا اور دسمبر 2007 میں کراچی پولیس نے بلوچستان کے حب کے علاقے میں ایک اور مقابلے میں اصل معشوق بروہی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
پہلی بار میں پولیس معشوق بروہی کے جال میں پھنسنے کے بعد بالآخر بدنام زمانہ ڈاکو کو ہلاک کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اغوا برائے تاوان بدنام زمانہ ڈاکو پولیس افسران چوہدری اسلم گینگ وار ہلاک وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا برائے تاوان بدنام زمانہ ڈاکو پولیس افسران چوہدری اسلم گینگ وار ہلاک وی نیوز اغوا برائے تاوان بدنام زمانہ ڈاکو معشوق بروہی کو پولیس افسران چوہدری اسلم مقابلے میں معشوق علی غلام رسول پولیس کے سے زیادہ کے مطابق پولیس ا میں ایک کا دعوی گیا اور کو ہلاک تھے اور اور اس کے لیے
پڑھیں:
چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 3 June, 2026 سب نیوز
جدہ( خالد نواز چیمہ )3 جون 2020 کو اس دنیا سے رخصت ہونے والے وزیرآباد کے ہر دلعزیز رہنما، محسن و معمارِ وزیرآباد، سابق ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری شوکت منظور چیمہ مرحوم کو بچھڑے آج چھ برس بیت گئے، مگر ان کی یادیں، خدمات اور عوام دوستی آج بھی لوگوں کے دلوں میں اسی طرح زندہ ہیں جیسے وہ آج بھی اپنے حلقے کے درمیان موجود ہوں۔
چوہدری شوکت منظور چیمہ مرحوم نے اپنی سیاسی اور سماجی زندگی عوام کی خدمت، علاقے کی تعمیر و ترقی اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے وقف کیے رکھی۔ وزیرآباد اور گردونواح کے عوام آج بھی ان کے دورِ خدمت کو عزت اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت شرافت، خلوص، محبت اور عوامی خدمت کی علامت تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے آج بھی انہیں فراموش نہیں کر سکے۔
ان کی چھٹی برسی کے موقع پر سعودی عرب میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں اور ان کے چاہنے والوں کی جانب سے ایک پُروقار یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف سماجی، سیاسی اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی اور چوہدری شوکت منظور چیمہ مرحوم کی سیاسی، سماجی اور عوامی خدمات کو بھرپور انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب کے شرکاء نے کہا کہ چوہدری شوکت منظور چیمہ صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ عوام کے حقیقی خیرخواہ اور وزیرآباد کی ترقی کے معمار تھے۔ انہوں نے ہمیشہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کے حقوق اور علاقے کی بہتری کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
تقریب میں شرکاء نے حکومتِ پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ چوہدری شوکت منظور چیمہ مرحوم کی سیاسی خدمات اور عوامی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی اہلیہ سابق ممبر صوبائی اسمبلی محترمہ طلعت شوکت منظور چیمہ کو پنجاب میں ایک باوقار اور اعلیٰ مقام دیا جائے، کیونکہ یہ نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ عوامی خدمت کے اس تسلسل کا اعتراف بھی ہوگا جس کی بنیاد چوہدری شوکت منظور چیمہ نے رکھی تھی۔
تقریب کے اختتام پر مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چوہدری شوکت منظور چیمہ کے خدمتِ خلق، محبت اور عوامی فلاح کے مشن کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ چوہدری شوکت منظور چیمہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتحصیلدار فتح جنگ چوہدری شفقت محمود کی جانب سےاپنےعملے کے اعزاز میں عید ملن پارٹی کا اہتمام ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے سابق وزیرِ اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی سے چیئرمین انوسٹر فورم اور سربراہ یارانِ جدہ چوہدری اظہر وڑائچ کی ملاقات *قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے وفاقی حکومت کی جائیداد کے انتظام سے متعلق اتھارٹی کے قیام کیلئے قانون سازی کی... وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم