بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو باضابطہ طور پر ‘وی آئی پی’ شخصیت قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کو قومی سلامتی قوانین کے تحت ‘وی آئی پی’ قرار دے دیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پیر کو جاری نوٹیفکیشن میں اس فیصلے کی تصدیق کی گئی۔ نوٹیفکیشن صدر کے جانب سے چیف ایڈوائزر کے دفتر کے ڈائریکٹر جنرل (انتظامیہ) نے جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیے: خالدہ ضیا کو علاج کے لیے بیرون ملک منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل
نوٹیفکیشن کے مطابق خالدہ ضیا کو اسپیشل سیکیورٹی فورس ایکٹ، 2021 کے سیکشن 2(a) کے تحت وی آئی پی حیثیت دی گئی ہے، اور یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
واضح رہے کہ خالدہ ضیا چند روز سے ڈھاکا کے ایور کیئر ہسپتال میں متعدد صحت کے مسائل کے باعث زیر علاج ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش خالدہ ضیا ڈھاکا وزیراعظم وی آئی پی.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش خالدہ ضیا ڈھاکا وی آئی پی خالدہ ضیا کو بنگلہ دیش آئی پی
پڑھیں:
بنگلہ دیش: ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ کی تنقید پر جماعت اسلامی میں غم و غصہ، بیان کو گمراہ کن قرار دے دیا
بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے رہنما اختر حسین کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جھوٹا، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
یہ ردِعمل جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ زبیر نے مرکزی شعبہ نشرواشاعت کے پلیٹ فارم سے جاری کیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: جماعت اسلامی اور اتحادیوں کا ریفرنڈم میں اصلاحات کی حمایت کا اعلان
بیان کے مطابق اختر حسین نے 6 دسمبر کو ایک پروگرام کے دوران جماعتِ اسلامی پر مسلح سیاست اور ہتھیاروں کی مشقیں کروانے کا الزام لگایا تھا۔
ایڈووکیٹ زبیر نے ان الزامات کو یکسر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ جماعتِ اسلامی ایک ذمہ دار، پُرامن اور منظم سیاسی جماعت ہے جو بنگلہ دیش میں قانون کی حکمرانی، امن، نظم اور جمہوری اقدار کی پابند ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہماری تاریخ اور سیاسی کردار ان بے سروپا الزامات کی ہرگز تائید نہیں کرتے۔ یہ ریمارکس مکمل طور پر بےبنیاد، من گھڑت اور سیاسی مقاصد کے تحت دیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ حالیہ عوامی بغاوت کے بعد جماعتِ اسلامی نے ملک میں سیاسی استحکام برقرار رکھنے کے لیے بردباری اور صبر کا مظاہرہ کیا ہے۔
’بنگلہ دیش کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ جماعت تشدد یا غیر قانونی سرگرمیوں پر یقین نہیں رکھتی۔ ایک بڑے سیاسی رہنما کی جانب سے ایسے گمراہ کن بیانات دینا نہایت افسوسناک اور غیر منطقی ہے۔ یہ صرف سستی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔‘
ایڈووکیٹ زبیر نے امید ظاہر کی کہ اختر حسین اپنا بے بنیاد بیان واپس لیں گے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی خواتین ونگ کا کارکنان کے ساتھ ہراسانی کے واقعات پر شدید احتجاج
انہوں نے خبردار کیا کہ انتشار پھیلانے والی، اشتعال انگیز اور جھوٹی باتیں قوم کے لیے مفید نہیں ہوتیں۔ ’کوئی بھی جھوٹے بیانات کے ذریعے عوام کو گمراہ نہیں کر سکتا۔‘
بیان میں میڈیا، سیاسی حلقوں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ایسے گمراہ کن پروپیگنڈے اور غلط معلومات سے ہوشیار رہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختر حسین بنگلہ دیش جماعت اسلامی نیشنل سٹیزن پارٹی وی نیوز