بنگلادیشی سابق وزیراعظم کی آئی سی یو میں طبیعت مزید خراب؛ وینٹی لیٹر پر منتقل
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
بنگلا دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کو دو روز قبل تشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں آج طبیعت مزید خراب ہونے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث سانس لینے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ انھیں آئی سی یو میں داخل کیا گیا تھا۔
جہاں ان کی طبعیت کچھ دیر کے لیے سنبھلی بھی تھی لیکن پھر تیزی سے بگڑنے لگی یہاں تک کہ ڈاکٹرز نے خالدہ ضیا کو وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا۔
خالدہ ضیا کے معائنے کے لیے چین سے ماہر ڈاکٹرز کی ایک ٹیم بھی ڈھاکا پہنچی ہے جنھوں نے معائنہ کرکے کچھ ضروری ٹیسٹس تجویز کیے ہیں۔ حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔
ڈاکٹرز نے سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی حالت کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگلے 24 گھنٹے ان کی زندگی کے لیے اہم ہیں۔
ادھر سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے اہل خانہ نے عوام سے دعائے صحت کی اپیل ہے جب کہ پارٹی رہنماؤں نے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا ہے۔
گزشتہ برس طلبا تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کے آمرانہ دور کا خاتمہ ہوا اور وہ بھارت فرار ہوگئیں تو خالدہ ضیا کو جیل سے 6 سال بعد رہائی ملی تھی۔
2018 سے قید خالدہ ضیا کی اسیری کے دوران ہی طبیعت خراب ہوگئی تھی لیکن شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے انھیں ملک سے باہر علاج کے لیے جانے نہیں دیا تھا۔
خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے طارق رحمان 2008 سے لندن میں جلاوطن ہیں انھوں نے ایک بار پھر عوام سے والدہ کی صحت کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خالدہ ضیا کو کے لیے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔