سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید ناساز، اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی دعا کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی ہے، جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں نے عوام سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 80 سالہ خالدہ ضیا کو 23 نومبر کو پھیپھڑوں کے انفیکشن کی علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال داخل کیا گیا تھا، اور وہ اس وقت انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہیں۔ بی این پی کے رہنما مرزا فخرال عالمگیر نے 28 نومبر کی رات بتایا کہ ڈاکٹروں نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ خالدہ ضیا کی حالت تشویشناک ہے۔
دی ڈیلی اسٹار کے مطابق خالدہ ضیا کو دل، جگر اور گردوں کے مسائل کے ساتھ شوگر، پھیپھڑوں کے امراض اور آنکھوں کی بیماری بھی لاحق ہے۔ ان کے دل میں مستقل پیس میکر نصب ہے اور اس سے قبل دل کی شریانوں میں اسٹنٹس بھی لگے ہیں۔
خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے طارق رحمان نے سوشل میڈیا پر عوام سے دعا کی درخواست کی اور کہا کہ وہ اپنی والدہ کے پاس نہیں پہنچ سکتے، لیکن دعاؤں اور محبت کے لیے دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مشکل وقت میں والدہ کے قریب ہونا چاہتے ہیں، مگر وطن واپسی کا فیصلہ صرف ان کا نہیں ہے۔
خالدہ ضیا تین بار وزیراعظم رہ چکی ہیں اور انہیں 2018 میں کرپشن کے الزام میں جیل بھیجا گیا تھا، جہاں انہیں بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے سے بھی روکا گیا۔ بعد ازاں وہ رہائی پا گئی تھیں۔
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے بھی کہا کہ خالدہ ضیا جمہوریت کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں اور ان کی صحت یابی ملک کے لیے اہم ہے۔
اس کے باوجود، خالدہ ضیا نے فروری 2026 میں شیڈول ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کا عزم برقرار رکھا ہے۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فیصل ممتاز راٹھور، ایک اسمبلی چوتھا وزیر اعظم
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-03-3
آزادکشمیر اسمبلی نے پانچ سال کی مدت میں چار مختلف وزرائے اعظم کو جنم دے کر اپنی پارلیمانی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر لیا۔ اس سے پہلے 2006 کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی نے چار وزرائے اعظم کو جنم دیا تھا مگر یہ چار شخصیات نہیں بلکہ صرف تین تھیں کیونکہ اسمبلی کے پہلے قائد ایوان سردار عتیق احمد خان برطرفی کے بعد آخری مرحلے میں ایک بارپھر وزیر اعظم بنے تھے۔ سردار عتیق احمد خان کی قیادت میں بننے والی حکومت کا تختہ سردار محمد یعقوب خان نے اْلٹ دیا تھا جو سال بھر میں ہی راجا فاروق حیدر کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہوئے اور اسمبلی کی میعاد چند ماہ ہی تھی جب سردار عتیق احمد خان نے فاروق حیدر کو اقتدار سے نکال کر خود زمامِ اقتدار سنبھالی تھی۔ یوں ایک اسمبلی سے چار وزرائے اعظم اور تین چہرے برآمد ہوئے تھے۔ اس کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے وزرائے اعظم راجا فاروق حیدر اور چودھری مجید نے بطور وزیر اعظم اپنی مدت پوری کی تھی۔ دس سال بعد بننے والی موجودہ اسمبلی ایک بار پھر عدم استحکام کے باعث چار وزرائے اعظم اور چار چہرے بدلنے کی راہ پر چل پڑی۔ اسمبلی کے پہلے قائد ایوان تحریک انصاف کے عبدالقیوم نیازی تھے۔ ان کی حکومت ابھی قدم جمانے ہی نہ پائی تھی کہ اسلام آباد میں عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی اور اس کے بعد عدم استحکام کے سائے آزادکشمیر پر بھی منڈلانے لگے۔ عبدالقیوم نیازی کا تختہ سردار تنویر الیاس نے اْلٹ ڈالا۔ دونوں کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا اور اس تبدیلی کو گھر کی بات گھر میں رہنے کے مصداق ہی سمجھا گیا۔ تنویر الیاس کا تختہ اسمبلی کے اسپیکر چودھری انوار الحق نے اْلٹ ڈالا۔ انہیں عدلیہ نے نااہل قرار دے کر انوارالحق کا راستہ صاف کیا۔ چودھری انوار الحق طمطراق کے ساتھ حکومت کرتے رہے مگر آخری برس جب پیپلزپارٹی نے معاملات اپنے ہاتھ میں لیے تو منظر بدلتا چلا گیا اور پیپلزپارٹی نے چودھری انوار الحق کو عدم اعتماد کے ذریعے ہٹا کر فیصل ممتاز راٹھور کو وزیر اعظم منتخب کر لیا۔
پیپلزپارٹی کے اندر کئی سینئر اور قدآور لوگ اس منصب کے لیے متحرک تھے مگر فیصل ممتاز راٹھور نے سرپرائز دے کر امیدوں اور توقعات کی بساط ہی اْلٹ ڈالی۔ فیصل راٹھور پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے یکے از بانیان اور سابق وزیر اعظم ممتاز حسین راٹھور کے صاحبزادے ہیں جو منظر پر موجود اپنے والد کے کئی ساتھیوں کو اوور ٹیک کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ گئے۔ فیصل ممتاز راٹھور بھی انوار الحق کابینہ کے طاقتور وزیروں میں شمار ہوتے تھے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کے طور پر بھی وہ سیاسی منظر پر پوری طرح متحرک دکھائی دیتے رہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے پیدا کردہ بحران کو کسی منطقی نتیجے تک پہنچانے میں بھی ان کا کردار تھا۔ وزرات عظمیٰ کے لیے فیصل راٹھور کا نام کبھی کبھار فضاؤں میں گونجتا تو رہتا تھا مگر وہ اس دوڑ کے بظاہر طاقتور کھلاڑیوں میں شامل نہیں تھے۔ اس دوڑ میں شامل طاقتور افراد میں سابق صدر اور وزیر اعظم سردار یعقوب خان، سینئر وزیر چودھری یاسین اور اسپیکر اسمبلی چودھری لطیف اکبر شامل تھے۔
فیصل راٹھور کی وزارت عظمیٰ میں دنوں کے اْلٹ پھیر کا ابدی تصور واضح طور پر جھلک رہا ہے۔ 1990 میں بے نظیر بھٹو نے فیصل راٹھور کے والد ممتاز حسین راٹھور کو سردار محمد ابراہیم خان کو ناراض کرتے ہوئے وزیر اعظم بنایا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ہی سردار ابراہیم خان نے پیپلز پارٹی سے اپنی راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسلام آباد میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم ہونے کے بعد آزادکشمیر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا روایتی نظام حرکت میں آگیا تھا۔ ممتاز راٹھو کو اس حد بے بس بنا دیا گیا تھا کہ وہ اسمبلی توڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ دوسری بار پیپلزپارٹی نے انتخاب جیتا تو بیر سٹر سلطان محمود چودھری اور ممتاز راٹھور کے درمیان وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کا مقابلہ ہوا اور اقتدار کا ہما بیرسٹر سلطان محمود کے سر پر بیٹھا۔ ممتاز راٹھور اسپیکر منتخب ہوئے۔
ممتازراٹھور ایک متحرک اور انقلابی مزاج کی شخصیت تھی انہوں نے اسپیکر کے منصب پر رہتے ہوئے اقتدار کی بساط اْلٹنے کی کوششیں جاری رکھیں یہاں تک کہ انہیں اس منصب سے ہٹایا گیا اور چودھری مجید نے اسپیکر کی کرسی سنبھالی۔ ممتازراٹھو کے خلاف پارٹی کے اندر سازشیں کرنے والے اکثر لوگوں کی اولادیں آج ان کے ساتھ ایوان میں موجود ہیں اور ان کے بیٹے وزیر اعظم کا منصب سنبھال چکے ہیں۔ اگلے چند ماہ میں وہ شاید کوئی بڑی تبدیلی تو نہ لاسکیں مگر انہوں نے انوار الحق کے گھٹن زدہ سیاسی اور حکومتی کلچر کو بدل کر اپنے والد کے عوامی انداز میں حکومت چلانے کا فیصلہ کیا ہے جو حقیقت میں سیاسی اور حکومتی سسٹم پر عوامی ایکشن کمیٹی کے ہاتھوں ختم ہوتا ہوا اعتماد بحال کرنے کی کوشش ہے۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ وہ سیاسی کلاس اور سسٹم پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟ مگر ان کی وزارت عظمیٰ نے ممتاز راٹھور کی سیاسی ریاضتوں اور آخری دور کی سیاسی تنہائیوں کی یاد دلادی۔ نوے کی دہائی کے اواخر میں ممتاز راٹھور کا جب انتقال ہوا تو وہ سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے عوامی جلسوں کی طوفانی مہم پر آزادکشمیر کے طول وعرض میں جا رہے تھے۔ فیصل راٹھور کی وزارت عظمیٰ نے آزادکشمیر کی تاریخ میں ممتاز راٹھور کے دھندلائے ہوئے سیاسی کردار کی ایک بار پھر یادیں تازہ کیں۔ راٹھور ایک شاندار شخصیت، وجیہ انسان اور زبان وبیان کی صلاحیتوں سے مالا انسان تھے۔ فقرہ چست کرنا ان پر ختم تھا۔ سیاست میں عوامی انداز کے قائل تھے۔ اپنی شعلہ نوائی کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں بے حد مقبول تھے۔ کئی مواقع پر مرکزی جلسوں میں بے نظیر بھٹو کے بعد جس شخصیت کی تقریروں پزیرائی ملتی وہ ممتاز راٹھو تھے۔ اب آزادکشمیر کی سیاست ایسے پرجوش اور پرکشش کرداروں اور قومی سطح کی قدآور شخصیات سے خالی ہو چکی ہے۔