پاکستان کو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی ضرورت ہے: گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی—فائل فوٹو
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پہنچے، جہاں انہوں نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی۔
اس موقع پر فیڈرل کانسٹیبلری کے دستے نے گورنر کے پی کو سلامی دی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں کل ناخوش گوار واقعہ پیش آیا، جس کے شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارا پڑوسی ملک افغانستان ہے، افغانستان کے باعث یہاں امن و امان کی صورتحال متاثر ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام فورسز پر فخر کرتے ہیں، بار بار افغانستان کو بتایا گیا کہ ان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان کے پاس جواب دینے کا حق موجود ہے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی ضرورت ہے، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہوں گے تو امن قائم ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی عبوری حکومت اس ایجنڈے پر نہیں ہے کہ ملک کی خدمت کر سکے، روز کی بنیاد پر ہماری فورسز فتنہ خوارج کو ختم کر رہی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ہم نے سالوں افغانوں کو اپنے ساتھ رکھا، اب فیصلہ کرنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ کیا کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پختونخوا فیصل کریم کنڈی خیبر پختونخوا گورنر خیبر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔