وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاق نے ابھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں طارق فضل چوہدری اور پی ٹی آئی کے رہنما شاہد خٹک نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبے میں گورننس اور لاء اینڈ آرڈر بگڑ جائے تو گورنر راج کا آپشن موجود ہے، لیکن وفاقی حکومت نے ابھی اس کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی انتظامی معاملات میں دلچسپی صفر ہے، خیبر پختونخوا کے عوام صوبے میں امن چاہتے ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سر پرستی کر رہی ہے، صوبائی حکومت کا اس معاملے پر کھڑا ہونا ضروری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت جب دہشت گردوں سے نمٹنے کی بات کرتی ہے تو خیبر پختونخوا میں مکمل تعاون نہیں کیا جاتا، وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو اس معاملے پر سوچنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا ہے، ہم کہتے ہیں دہشت گردی کا خاتمہ ہو، یہ کہتے ہیں دہشت گردوں سے بات چیت ہو، کوئی نیا آپریشن نہیں ہو رہا ،ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم افغانستان کے خلاف نہیں، افغانستان کی عبوری حکومت سےکہہ رہے ہیں کہ دہشت گردوں کو روکیں، افغان طالبان لکھ کر دینے کو تیار نہیں کہ ان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان خطے میں ریجنل پیس آرگنائزر ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اختلافی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم میں ایسا کون سا عمل ہوا، جس سے عدلیہ کے وقار میں کوئی کمی آئی ہو، اپنی ریاست کےخلاف اگر کوئی وی لاگس بناتا ہے تو اس سے بڑا کوئی ضمیر فروش نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملاقات ان کا حق ہے، ہم اس سے انکار نہیں کرتے، بانی پی ٹی آئی سے اگر یہ ملتے ہیں تو حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ نومبر میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں تاخیر آئی، اس کی وجہ کچھ اور تھی، اسلام آباد میں ان کا 26 نومبر 2025 کو چڑھائی کا پروگرام تھا۔

طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس سے متعلق غلط تاثر دیا جاتاہے کہ مخصوص قانون کی منظوری کے لیے بلایا جاتا ہے، بانی پی ٹی آئی مکمل صحت مند ہیں، سینیٹ میں کہہ چکا ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا وفاقی وزیر پی ٹی ا ئی نے کہا کہ نہیں کیا

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن