گلگت بلتستان الیکشن، اسلامی تحریک اور پیپلز پارٹی اہم وکٹیں گرانے کو تیار
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
روندو سے بھی اہم شخصیت کی اسلامی تحریک میں شمولیت کا امکان ہے۔ ادھر شگر سے راجہ اعظم خان کو بھی اسلامی تحریک میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کے عام انتخابات قریب آتے ہی سیاسی جوڑ توڑ اور کھینچا تانی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ گلگت اور سکردو میں بعض الیکٹیبلز کا سیاسی قبلہ پھر سے تبدیل ہونے کی تیاریاں جاری ہیں۔ ذمہ دا ذرائع نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ سابق گورنر گلگت بلتستان و سابق صوبائی صدر پی ٹی آئی راجہ جلال حسین مقپون گلگت پہنچ گئے ہیں اور وہ یہاں اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ راجہ جلال کی آج یا کل گلگت میں موجودہ نگران وزیر اعلیٰ و سابق وزیر اعلیٰ سے ملاقاتوں کا امکان ہے۔ راجہ جلال بہت جلد اسلامی تحریک میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سکردو حلقہ ایک میں تین بڑی جماعتوں کے مابین "انڈرسٹینڈنگ" فائنل ہونے والا ہے جس کے تحت حلقہ ایک سے پیپلزپارٹی اور نون لیگ اپنے امیدواروں کو دستبردار کروائیں گی تاکہ راجہ جلال کی جیت کی راہ ہموار ہو سکے۔ روندو سے بھی اہم شخصیت کی اسلامی تحریک میں شمولیت کا امکان ہے۔ ادھر شگر سے راجہ اعظم خان کو بھی اسلامی تحریک میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرنے کے بعد راجہ اعظم خان کے پاس صرف اسلامی تحریک کا راستہ بچتا ہے، اور ممکن ہے کہ راجہ جلال راجہ اعظم کو اپنے ہمخیال گروپ کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوں۔ دوسری طرف روندو سے سابق وزیر پلاننگ راجہ ناصر علی خان، کھرمنگ سے سید امجد زیدی، گانچھے سے مشتاق حسین جلد پیپلزپارٹی میں شامل ہوں گے، جبکہ حاجی عبد الحمید پہلے ہی پی پی میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ 4 دسمبر کو یہ چاروں شخصیات پیپلزپارٹی میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کرینگی۔ گزشتہ روز پی پی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ 4 دسمبر کو وہ بڑا سرپرائز دینگے۔ دریں اثناء ایک اور اطلاع یہ بھی ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ حاجی گلبر اپنا گروپ تشکیل دینے میں ناکام ہونے کی صورت میں وہ بھی اپنے ہمخیالوں کے ساتھ پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کر سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی تحریک میں میں شمولیت کا راجہ جلال
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔