حفیظ الرحمن اور احسن اقبال گلگت بلتستان کے غدار ہیں، غلام شہزاد آغا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
سابق وزیر تعلیم نے ایک بیان میں کہا کہ نواز لیگ نے غواڑی پاور پراجیکٹ ختم کر کے بلتستان ریجن کو اندھیروں میں دھکیلا اور اب دعویٰ کر رہے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر تعلیم و رہنما پیپلز پارٹی گلگت بلتستان غلام شہزاد آغا نے کہا ہے کہ احسن اقبال اور حفیظ الرحمٰن گلگت بلتستان کے غدار ہیں۔ انہوں نے لیگی رہنما احسن اقبال کے گلگت میں خطاب پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز لیگ نے غواڑی پاور پراجیکٹ ختم کر کے بلتستان ریجن کو اندھیروں میں دھکیلا اور اب دعویٰ کر رہے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ گلگت بلتستان سے پیپلز پارٹی کے دیئے ہوئے آئینی و انتظامی اختیارات نکال دیئے جائیں تو حفیظ الرحمٰن کی کرپشن کے علاؤہ کچھ نہیں بچتا۔ گزشتہ دو سالوں سے وفاق میں نواز لیگ کی حکومت ہے اس دوران انہیں گلگت بلتستان سے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا خیال نہیں آیا بلکہ الٹا غواڑی پاور پراجیکٹ ختم کر دیا اور اب گلگت بلتستان کے انتخابات قریب آتے ہی علاقے کے ہمدرد بننے کی اداکاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز لیگ نے پنجاب میں گلگت بلتستان کے طلبہ کا کوٹہ ختم کر کے اوپن میرٹ کا نفاذ کیا جس سے یہاں کے طلبہ کا حق مارا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جی بی کیلئے سب سے زیادہ کام پیپلز پارٹی نے کیا ہے۔ تمام تر آئینی اور انتظامی اصلاحات پی پی کی مرہون منت ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید، بینظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری نے اپنے اپنے ادوار میں بتدریج جی بی کے لئے آئینی و انتظامی اختیارات دیئے۔ نواز لیگ کے دور حکومت میں جی بی میں ٹھیکوں سے کمیشن خوری اور چند منظور نظر ٹھیکیداروں کو نوازنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوا۔ حفیظ الرحمٰن جس نظام کے تحت جی بی کے وزیر اعلیٰ بنے وہ بھی پیپلز پارٹی کا دیا ہوا تحفہ ہے۔ شمالی علاقہ جات جیسے بے نام خطہ کو گلگت بلتستان کے نام سے پہچان بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حفیظ الرحمٰن سے اپنی پارٹی سنبھالی نہیں جاتی انکی گلگت بلتستان سنبھالنے کی باتیں مضحکہ خیز ہیں۔ گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر پیپلز پارٹی مقبول ترین جماعت ہے۔ گزشتہ انتخابات میں تیسری پوزیشن پر رہنے والے حفیظ الرحمٰن کی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے خواہش بلی کے خواب میں چھیچھڑوں کے مترادف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آمدہ انتخابات میں پیپلز پارٹی عوامی مینڈیٹ سے واضح اکثریت حاصل کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے حفیظ الرحم ن پیپلز پارٹی نواز لیگ
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔