سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال سے رابطوں کے معاملے پر اسلامی تحریک میں اختلافات
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق اسلامی تحریک کے مرکزی جنرل سکریٹری علامہ شبیر میثمی اور صوبائی صدر شیخ مرزا علی کی جانب سے سکردو میں سابق گورنر راجہ جلال سے کی جانے والی ملاقات پر اسلامی تحریک سکردو کی تنظیم نے اعتراض اٹھا دیا اسلام ٹائمز۔ سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین سے اسلامی تحریک کے رابطوں پر جماعت میں اختلافات پیدا ہو گئے، ضلعی تنظیموں نے صوبائی قائدین سے شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی تحریک کے مرکزی جنرل سکریٹری علامہ شبیر میثمی اور صوبائی صدر شیخ مرزا علی کی جانب سے سکردو میں سابق گورنر راجہ جلال سے کی جانے والی ملاقات پر اسلامی تحریک سکردو کی تنظیم نے اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ ضلعی تنظیم کو اعتماد میں لئے بغیر یہاں کسی قسم کا کوئی فیصلہ کیا جائے اور الیکشن سے متعلق رپورٹ مرتب کی جائے۔ اسلامی تحریک کے ضلعی جنرل سکریٹری علامہ شیخ احمد ترابی نے کہا ہے کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہاں ضلعی تنظیم کی مرضی و منشا کے خلاف کوئی فیصلہ ہو گا، یہاں جو کچھ ہو گا ضلعی اور تحصیل سطح کی تنظیموں کی مرضی کے تحت ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اندھیرے میں رکھ کر کوئی فیصلہ قابل قبول نہیں ہو گا۔ فیصلوں میں ضلعی اور تحصیل سطح کی تنظیموں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔ دوسری جانب اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسلامی تحریک سکردو کے تمام ناراض عہدیداران کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔ سید ساجد علی نقوی ناراض رہنماوں سے ان کے تحفظات سنیں گے۔ اسلامی تحریک کے ایک ضلعی عہدیدار نے کہا ہے کہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے سامنے ہم اپنا ٹھوس موقف پیش کریں گے۔ ان سے کہیں گے اسلامی تحریک سکردو سے متعلق فیصلے کہیں اور سے ہو رہے ہیں، باہر سے فیصلے کر کے ہمارے اوپر مسلط کئے جاتے ہیں، جو ہمیں قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی تحریک سکردو اسلامی تحریک کے سابق گورنر راجہ جلال کی تنظیم
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔