سینئر نائب صدر مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان شیخ نیر عباس مصطفوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے یہ اراکینِ اسمبلی گلگت بلتستان کی تاریخ کا رخ موڑنے والے ثابت ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹریٹ میں ایم ڈبلیو ایم کے اراکینِ اسمبلی کی اعلیٰ کارکردگی اور ترقیاتی خدمات کے اعتراف میں ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں صوبائی کابینہ اور ضلعی مسئولین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں سابق اپوزیشن لیڈر میثم کاظم، سابق رکن اسمبلی شیخ اکبر علی رجائی، سابق مشیرِ وزیرِ اعلیٰ الیاس صدیقی اور سابق رکن اسمبلی کنیز فاطمہ کی شاندار کارکردگی، قومی و ملی خدمات اور ترقیاتی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں تعریفی اسناد اور پھولوں کا مالا پہنایا گیا۔ سینئر نائب صدر مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان شیخ نیر عباس مصطفوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کے یہ اراکینِ اسمبلی گلگت بلتستان کی تاریخ کا رخ موڑنے والے ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف بہترین ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کیا بلکہ عوامی، قومی اور ملی خدمات کی شاندار مثال قائم کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کو اپنے ان اراکین کی شاندار کامیابیوں اور قابلِ قدر خدمات پر فخر ہے، جنہوں نے عوامی توقعات پر پورا اترتے ہوئے خطّے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایم ڈبلیو ایم کے گلگت بلتستان

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل