City 42:
2026-06-03@02:05:31 GMT

نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے عہدے کا حلف اٹھالیا  

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

ویب ڈیسک:نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس ریٹائرڈ یار محمد نے عہدے حلف اٹھا لیا، جسٹس ریٹائرڈ یار محمد گلگت بلتستان کے تیسرے نگران وزیراعلی بن گئے۔

 تقریب حلف برداری میں حلف کی تقریب میں سیاسی شخصیات، ججز، سول و عسکری حکام نے شرکت کی، تقریب حلف میں وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی شرکت کی،جسٹس (ر)یار محمد سے گورنر سید مہدی شاہ نے حلف لیا۔

 جسٹس ریٹائرڈ یار محمد خان ضلع استور کے گاﺅں ناصرآباد سے تعلق رکھتے ہیں، کابینہ کی تشکیل کے بعد نگران حکومت عام انتخابات تک ذمہ داریاں نبھائے گی۔

لاہور فضائی آلودگی کے اعتبار سے پانچویں نمبر پرآگیا

 قبل ازیں چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی اور حکومت کی مدت 24 نومبر کو مکمل ہوگی، گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات فروری 2026 میں ہونگے، اسمبلی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

 راجہ شہباز خان نے کہا کہ 9 لاکھ 91 سے زائد ووٹرز کی لسٹ بن گئی ہے، فروری 2026 میں گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کیلئے آج سے تمام اسٹنٹ کمشنرز کو ووٹر لسٹیں روانہ کر دی ہیں، اسمبلی کے 25 انتخابی حلقوں میں ووٹر لسٹیں کل سے آویزاں ہونگی۔

 کراچی: مختلف علاقوں میں فائرنگ اور تیز دھار آلے کے وار، 3 افراد زخمی حالت میں اسپتال منتقل

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان یار محمد

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے