گلگت بلتستان میں آئندہ حکومت کون سی جماعت بنائے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
گلگت بلتستان میں صوبائی حکومت کی 5 سالہ آئینی مدت گزشتہ روز مکمل ہو گئی ہے اور اسمبلی تحلیل ہو گئی ہے، تمام وزرا، مشیران اور کوآرڈینیٹرز کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے، اور جسٹس (ر) یار محمد خان کو نگراں وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی تقرری آرٹیکل 48-A(2) کے تحت کی گئی اور یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور GB کونسل کے چیئرمین موجودہ وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کے بعد منظور کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان اسمبلی کی 5 سالہ مدت مکمل، ریٹائرڈجسٹس یار محمد نگران وزیراعلیٰ مقرر
گلگت بلتستان میں اب نگراں سیٹ اپ باقاعدہ قائم ہو گیا ہے، سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگلی منتخب حکومت گلگت بلتستان میں کس پارٹی یا اتحاد کی ہوگی؟
گلگت بلتستان کے عام انتخابات فروری 2026 میں منعقد ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کے مطابق الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں 25 حلقوں میں 9 لاکھ 91 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کی فہرستیں خطے کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ارسال کر دی گئی ہیں۔
امور گلگت بلتستان پر نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ کار فیض اللہ فاروق نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں اسی جماعت کی حکومت ہوتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو اس مرتبہ جو کہ وفاق میں اتحادی حکومت ہے تو امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بن گلگت بلتستان میں آئندہ بھی ایک اتحادی حکومت کا قیام ہوگا اس وقت صورتحال ایسی ہے کہ انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ دونوں کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور دونوں جماعتوں میں سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا وزیراعلی ہوگا دوسری جماعت کو زیادہ وزارتیں دے کر اتحادی حکومت میں شامل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:حسین آبادی میوزیم: گلگت بلتستان کا سب سے بڑا نجی میوزیم
فیض اللہ فاروق نے کہا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات میں مقابلہ صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں ہی نظر آرہا ہے البتہ چونکہ زیادہ تر الیکٹیبلز کا رجحان پیپلز پارٹی کی طرف اس لیے امکان یہی ہے کہ پیپلز پارٹی زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی جبکہ اگر عوام یا ووٹرز کی رائے کو دیکھا جائے تو ووٹرز کا ملا جلا رجحان ہے لیکن کچھ حلقوں میں ن لیگ کو پیپلز پارٹی پر واضح برتری حاصل ہے، میری رائے میں آئندہ انتخابات کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کی نشستوں میں زیادہ فرق نہیں ہو گا، زیادہ نشستوں والی جماعت اپنا وزیر اعلیٰ بنا لے گی۔
پی ٹی آئی کے حوالے سے فیض اللہ فاروق کا کہنا تھا کہ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں PTI نے اہم نشستیں جیتی تھیں لیکن حالیہ برسوں میں بعض رہنما اس سے الگ ہوئے یا پارٹی سے نکالے گئے، جس کا مطلب ہے کہ پارٹی کا اندرونی ڈھانچہ کمزور ہو گیا ہے، اس وقت چند رہنما ہی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں جبکہ زیادہ امیدواروں کی کوشش ہے کہ ان کو مسلم لیگ ن یا پیپلز پارٹی کا ٹکٹ مل جائے، پی ٹی آئی کے چند سابق رہنما پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان آدھی مدت کے اقتدار کے معاہدے کی حقیقت کیا ہے؟
2020 میں ہونے والے انتخابات میں آزاد امیدواروں نے بھی نشستیں حاصل کی تھیں، وہ علاقے جہاں خود مختاری کا مطالبہ زیادہ ہے وہاں مجلسِ وحدت المسلمین، گلگت بلتستان قومی موومنٹ، بالاوارستان نیشنل فرنٹ جیسی مقامی جماعتیں بھی ایک یا 2-2 نشستیں حاصل کر کہ انتخابات پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے نائب صدر عمران ندیم شگری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت گلگت بلتستان کی سب سے بڑی جماعت ہے، سب سے زیادہ زور و شور سے پیپلز پارٹی ہی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، چھوٹی سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار بھی پیپلز پارٹی سے اتحاد کے خواں ہے، آئندہ وزیر اعلیٰ پیپلز پارٹی کا ہی ہو گا۔
عمران ندیم شگری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں تمام سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدواروں کے لیے اتحاد کے دروازے کھول رکھے ہیں، پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سیاسی جماعت یا سیاستدان اپنے قد کے مطابق پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتا ہے تو پیپلز پارٹی اس کے ساتھ اتحاد کے لیے تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اپنی پارٹیاں تبدیل کر کے دوسری پارٹیوں میں شامل ہوتے ہیں پیپلز پارٹی کا ان کے حوالے سے بھی یہی موقف ہے کہ اگر تو وہ اسی جماعت میں رہیں اور ٹکٹ ملنے نہ ملنے کی صورت میں بھی ٹکٹ ملنے والے امیدوار کا ساتھ دیں تو ایسے سیاست دانوں کو بھی پیپلز پارٹی میں شامل کیا جائے گا لیکن صرف ٹکٹ کے لیے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو پیپلز پارٹی کے کارکنان خوش دلی سے قبول نہیں کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیپلز پارٹی عمران ندیم شگری فیض اللہ فاروق گلگت بلتستان مسلم لیگ ن نگراں حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی فیض اللہ فاروق گلگت بلتستان مسلم لیگ ن نگراں حکومت گلگت بلتستان میں فیض اللہ فاروق پیپلز پارٹی کا انتخابات میں نشستیں حاصل کا کہنا کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
اسلام آباد: معروف امریکی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا نے 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی ہے، جسے جدید ڈیزائن اور ہلکے وزن کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیسلا بچوں کی بیلنس بائیک مضبوط مگر ہلکے میگنیشیم فریم پر مشتمل ہے، جبکہ اس میں بچوں کی سہولت کے لیے ایڈجسٹ ہونے والی نشست بھی دی گئی ہے۔ بائیک کے سائیڈ پر ٹیسلا کا نام اور سامنے نمایاں T لوگو بھی موجود ہے۔
یہ بائیک روایتی سائیکل سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نہ پیڈل موجود ہیں، نہ موٹر اور نہ ہی بریک۔ بچے اپنے پیروں کی مدد سے اسے چلاتے ہیں، جس سے ان میں توازن برقرار رکھنے اور سائیکل چلانے کی بنیادی مہارت پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کمپنی نے اس منفرد بائیک کی قیمت 225 امریکی ڈالر مقرر کی ہے، جو عام بیلنس بائیکس کے مقابلے میں زیادہ ہے، کیونکہ مارکیٹ میں ایسی بیشتر بائیکس تقریباً 100 ڈالر میں دستیاب ہوتی ہیں۔
قیمت نسبتاً زیادہ ہونے کے باوجود یہ بائیک فروخت کے آغاز کے فوراً بعد آؤٹ آف اسٹاک ہو گئی، جس سے صارفین کی غیر معمولی دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
ٹیسلا کے مطابق نئی کھیپ کے لیے 31 جولائی سے پری آرڈر دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بائیک 2 سے 5 سال عمر کے بچوں کے لیے موزوں ہے۔ اس کے استعمال کے لیے بچے کی ٹانگ کی کم از کم لمبائی 13.7 انچ (35 سینٹی میٹر) ہونی چاہیے، جبکہ تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ وزن 30 کلوگرام اور قابل برداشت زیادہ سے زیادہ وزن 35 کلوگرام رکھا گیا ہے۔
ٹیسلا نے یہ بھی بتایا کہ بائیک کی اسمبلنگ کے لیے درکار تمام ضروری اوزار پیکج میں شامل ہوں گے، جبکہ صارفین کو مکمل ہدایات پر مشتمل استعمال کا کتابچہ بھی فراہم کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق بچوں کی مصنوعات کی مارکیٹ میں ٹیسلا کی یہ نئی پیشکش کمپنی کی برانڈ توسیع کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ گاڑیوں کے علاوہ دیگر صارفین کی مصنوعات میں بھی اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔