کندھکوٹ میں پیپلزپارٹی کا 58 واں یوم تاسیس بھرپور طریقے سے منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کندھکوٹ(نمائندہ جسارت) پاکستان پیپلز پارٹی کے 58 یوم تاسیس کے حوالے سے پی پی پی ضلع کشمور کندھکوٹ کی جانب سے بھر پور طریقے سے منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع کشمور کندھکوٹ کے صدر میر گل محمد خان جکھرانی اور ضلع کے جنرل سیکرٹری میر الطاف احمد خان کہوسو نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا 58 یوم تاسیس کے حوالے سے پی پی پی ضلع کشمور کندھکوٹ کی جانب سے بھر پور طریقے سے منایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی ضلع کشمور کندھکوٹ کے صدر میر گل محمد جکہرانی اور ضلع کے جنرل سیکرٹری میر الطاف احمد کہوسو نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی آج 58 برس ہو چکے ہیں قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا بنیاد رکھا تھا شہید بھٹو نے اور شہید بینظیر بھٹو نے پاکستان کی عوام کے خاطر اپنی جان کا نذرانہ دے کر اس ملک پاکستان کو بچایا۔ شہید بھٹو غریب عوام سے محبت کرتا تھا اس نے کہا تھا کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری شہید بھٹو کے نقش قدم پر چل رہے ہیں پاکستان کی غیور عوام اور پیپلز پارٹی کے جیالے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی ضلع کشمور کندھکوٹ حوالے سے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔