ای چالان صرف کراچی والوں کیلئے ہے، جرمانے کم نہیں کیے جائینگے، وزیر بلدیات سندھ
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو با اختیار کیا جا رہا ہے، ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار کیوں اختیار کی؟ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ای چالان صرف کراچی والوں کیلئے ہے، جرمانے کم نہیں کیے جائیں گے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ سالڈ ویسٹ بورڈ کی میٹنگ تھی، سندھ میں ڈویژنل بورڈ کو ایکٹو کیا جا رہا ہے، کراچی میں ہر جگہ پر اس کو بہتر کیا جائے گا، گھروں سے کچرا اٹھانے کا سلسلہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای چالان صرف کراچی والوں کیلئے ہے، جرمانے کم نہیں کیے جائیں گے، کراچی کو بہتر کرنے کیلئے ہم سب کو مل کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو با اختیار کیا جا رہا ہے، ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار کیوں اختیار کی؟، پی ٹی آئی نے پنجاب میں بلدیاتی نظام ہی ختم کر دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔