حیسکو چیف کا شمع کمرشل ایریا میں لوڈشیڈنگ میں کمی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر ) چیف ایگزیکٹو آفیسر حیسکو فیض اللہ ڈاہری نے شمع کمرشل ایسوسی ایشن اینڈ ٹریڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی سرگرمیوں کے اوقات میں شمع کمرشل ایریا میں لوڈ شیڈنگ میں کمی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور انہیں بلا تعطل بجلی فراہم کرنا حیسکو کی ذمہ داری ہے دورے کے دوران حیسکو چیف نے ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کی اور علاقے میں بجلی سے متعلق مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شمع کمرشل میں بجلی کے معیار اور سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی جاوید خلجی نے چیف ایگزیکٹو حیسکو کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقے کی کاروباری برادری کے لیے خوش آئند قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے نہ صرف تاجروں کو سہولت ملے گی بلکہ صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا صدر اعجاز علی راجپوت نے کہا کہ کم وولٹیج، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ کے مسائل روزانہ کی بنیاد پر کاروباری ماحول کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے حیسکو انتظامیہ سے اپیل کی کہ شمع کمرشل کو ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں شمع کمرشل ایسوسی ایشن اینڈ ٹریڈ انڈسٹری کے جنرل سیکریٹری نواب الدین قریشی نے حیسکو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس اعلان پر جلد از جلد عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا دورے کے موقع پر حیسکو کے ایس ای سرکل ون سہیل احمد شیخ، پی ایس او فہیم میمن، ایکسین گاڑی کھاتہ ظفر سولنگی، عامر نوید میمن لائزن آفیسر،صادق کبر ڈپٹی مینیجر پبلک ریلیشنز، ولی داد چانڈیو کوآرڈینیٹر آفیسر،صابر لغاری ایس ڈی او لیاقت کالونی، ایسوسی ایشن کے اشفاق احمد سومرو، رضوان احمد، علی رضا آرائیں، رمضان عباسی، ناصر ملک،محمد علی،عرفان ملک نعیم دیسوالی، سلمان شیخ، ودیگر موجود تھے جبکہ ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے حیسکو چیف فیض اللہ ڈاہری سمیت دیگر معزز مہمانوں کو سندھی ٹوپی اور اجرک کا تحفہ پیش کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن کے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔