وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کو اپنی بلڈنگ دینے سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کو اپنی بلڈنگ دینے سے انکار کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کو اپنی بلڈنگ دینے سے انکار کردیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق 27 ویں ترمیم کے بعد قائم ہونے والی آئینی عدالت کے ججز کو وفاقی شرعی عدالت میں جگہ دینے کی باتیں ہورہی تھیں تاہم وفاقی شرعی عدالت نے آئینی عدالت کو اپنی بلڈنگ دینے سے انکار کردیا۔
وفاقی شرعی عدالت کے انکار پر چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان فی الحال اسلام آباد ہائیکورٹ کے روم نمبر ایک میں بیٹھیں گے جب کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر کورٹ روم 2 نمبر میں منتقل ہو جائیں گے۔واضح رہے گزشتہ روز صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر جسٹس امین الدین خان کی تقرری کی منظوری دی تھی جس کے بعد آج جسٹس امین الدین نے آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا جب کہ آئینی عدالت کے 3 اور ججز نے بھی حلف اٹھایا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپشاور ہائیکورٹ کا سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم پشاور ہائیکورٹ کا سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم سی ڈی اے کے شعبہ اکائونٹس میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلے ، نوٹیفکیشن سب نیوز پر دہشت گردوں کے کسی بھی گروپ سے مذاکرات نہیں کریں گے: پاکستان سینیٹر فلک ناز کے ساتھ مالی فراڈ کرنے والے ملزمان گرفتار عدلیہ کا کردار بڑا تاریک رہا، ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا، وزیر دفاع اسلام آباد کو کیش لیس اور ڈیجیٹل شہر بنانے کیلئے ایک اور اہم سنگ میل عبورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت عدالت کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔