پیٹرول 2روپے فی لیٹر سستا اور ڈیزل 9 روپے 50پیسے مہنگا ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
پیٹرول 2روپے فی لیٹر سستا اور ڈیزل 9 روپے 50پیسے مہنگا ہونے کا امکان WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )بین الاقوامی منڈی میں معمولی اتار چڑھا کے باعث پیٹرول کے علاوہ تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ 15 روز (30نومبر تک)کے لیے ہفتے کو زیادہ سے زیادہ 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق موجودہ ٹیکس شرحوں کی بنیاد پر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت میں تقریبا 9روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے کا خدشہ ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریبا 2 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔یکم جون سے اب تک پیٹرول اور ڈیزل کی نیٹ قیمتوں میں بالترتیب تقریبا 12 روپے 50 پیسے اور 23 روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی ایکس ڈپو قیمتوں میں بھی بالترتیب 8 روپے 80 پیسے اور 7روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافے کا خدشہ ہے، فی الوقت مٹی کا تیل 185 روپے اور ایل ڈی او 164 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ا
یکس ڈپو پیٹرول کی موجودہ قیمت 265 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہے، جو کم ہو کر 263 روپے 50 پیسے ہونے کا امکان ہے، پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی قیمت کا براہِ راست اثر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ پر پڑتا ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی موجودہ ایکس ڈپو قیمت 278 روپے 44 پیسے فی لیٹر ہے، جو 15 نومبر کو بڑھ کر 288 روپے فی لیٹر سے اوپر جا سکتی ہے، ٹرانسپورٹ سیکٹر کی زیادہ تر سرگرمیاں اسی ایندھن پر منحصر ہیں، اس کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلز، اور تھریشرز سمیت بڑے ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری میں استعمال ہوتا ہے، جس سے سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس، نئے رولز 2025متفقہ طور پر منظور سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس، نئے رولز 2025متفقہ طور پر منظور وفاقی شرعی عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کو اپنی بلڈنگ دینے سے انکار کردیا پشاور ہائیکورٹ کا سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال روکنے کا حکم سی ڈی اے کے شعبہ اکائونٹس میں اعلیٰ سطح پر تقرر و تبادلے ، نوٹیفکیشن سب نیوز پر دہشت گردوں کے کسی بھی گروپ سے مذاکرات نہیں کریں گے: پاکستان سینیٹر فلک ناز کے ساتھ مالی فراڈ کرنے والے ملزمان گرفتارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پیسے فی لیٹر روپے فی لیٹر روپے 50 پیسے کا امکان کی قیمت
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔